16 min

فیض احمد فیض قسط نمبر 2 ZikreKitab Urdu Podcast ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

    • Books

فیض احمد فیض کتابوں کے آئنے میں



کتابیں جو میں نے پڑھیں کے سلسلے میں محمود احمد صاحب جائزہ لے رہے ہیں مختلف ادیبوں شاعروں اور سیاست دانوں کی شخصیت کا ان کتابوں کی روشنی میں جو ان لوگوں نے لکھیں یا ان کے بارے میں لکھی گئی ہیں محمود صاحب اس سے پہلے شیرباز خان مزاری صاحب اور شورش کاشمیری کی شخصیتوں کا جائزہ لے چکے ہیں کتابون کہ روشنی میں انہوں نے تیسری جس شخصیت جق چنا ہے ان کا نام فیض احمد۔ فیض ہے آپ جائزہ لے رہے ہیں فیض کی زندگی کا ان کی اور ان کے بارے میں لکھی ہوئی کتابوں کی روشنی میں ۔ اس سلسلے میں آپ پہلی قسط سن چکے ہیں

آج یہ ا جس میں محمود صاحب نے فیض صاحب کی کتاب دست تہہ سنگ کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح وہ کالج کی زندگی ہی سب ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے تھے محمود صاحب نے بتایا تھا کہ ایک وقت تھا کہ فیض صاحب گانے والیوں میں اتنے مقبول تھے کہ اکثر ان سے مشاعروں میں درخواست ہوتی تھی کہ آپ اپنی فلاں گانے والی کی فلاں غزل سنا دیں پہلی قسط میں محمود صاحب نے فیض صاحب کے شادی سے قبل اور شادی کے بعد کے رومان اور معاشقوں کا بھی ذکر کیا تھا



آج یہ اس سلسلے کی دوسری قسط ہے

جس میں فیض صاحب کے معاشقوں اور رومان کے تذکرے کو ختم کرتے ہوئے محمود صاحب نے بتایا کہ فیض صاحب رومان پسند ضرور تھے مگر۔ بد چلن نہیں ۔۔ آج دوسری قسط میں۔ محمودصاحب نے بتایا کہ تقسیم ہند سے قبل ترقی پسند تحریک نے برطانوی سامراج کا اس لیئے ساتھ دیا کہ وہ روس کا اتحادی تھا بڑی تعداد میں ترقی پسند شعرا اور ادیب برطانوی فوج اور حکومت میں۔ شامل ہوئے جس میں فیض صاحب بھی تھے ۔ 1951 میں جب میجر جنرل اکبر خان کی سربراہی میں پنڈی سازش کیس کا انکشاف ہواتو اس میں ہندوستان نے کیمونسٹ پارٹی کے بھیجے ہوئے منذوب سجاد ظہیر کے ساتھ ساتھ فیض صاحب بھی سازش کے شریک کار کے طور پر گرفتار ہوئے تھے پنڈی سازش کیس میں جیل میں گزرے فیض صاحب کے دنوں کے بارے میں۔ ان کی شریک جرم ظفراللہ پوشی کی کتاب زندگی زنداں دلی کا نام ہے کا محمود صاحب نے ذکر کیا پنڈی سازش کیس کے تذکرے کے بعد محمود صاحب نے اس قسط میں جائزہ لیا فیض صاحب کہ صحافیانہ زندگی کا جس کا آغاز ہوا تھا پاکستان ٹائمز سے پھر محمود ہارون نے جب ڈان گروپ کے اخبارحریت کی ادارت انہیں دی تو فیض۔ صاحب نے اسے بائیں بازو کا اخبار ترقی پسند صحافیوں کو لا کر اسے بائیں بازو کا اخبار بنانے کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی ۔فیض صاحب۔ محفلوں میں بہت کم گو تھے اور کئی کئی گھنٹوں میں ایک جملہ بھی نہیں بولتے تھے محمود صاحب نے اس قسط میں۔ فیض صاحب کے بارے میں حمید نسیم ، خوشونت سنگھ اور صبیح محسن کہ کتابوں کا حوالہ دیا اقتباسات سنائے ا

فیض احمد فیض کتابوں کے آئنے میں



کتابیں جو میں نے پڑھیں کے سلسلے میں محمود احمد صاحب جائزہ لے رہے ہیں مختلف ادیبوں شاعروں اور سیاست دانوں کی شخصیت کا ان کتابوں کی روشنی میں جو ان لوگوں نے لکھیں یا ان کے بارے میں لکھی گئی ہیں محمود صاحب اس سے پہلے شیرباز خان مزاری صاحب اور شورش کاشمیری کی شخصیتوں کا جائزہ لے چکے ہیں کتابون کہ روشنی میں انہوں نے تیسری جس شخصیت جق چنا ہے ان کا نام فیض احمد۔ فیض ہے آپ جائزہ لے رہے ہیں فیض کی زندگی کا ان کی اور ان کے بارے میں لکھی ہوئی کتابوں کی روشنی میں ۔ اس سلسلے میں آپ پہلی قسط سن چکے ہیں

آج یہ ا جس میں محمود صاحب نے فیض صاحب کی کتاب دست تہہ سنگ کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح وہ کالج کی زندگی ہی سب ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے تھے محمود صاحب نے بتایا تھا کہ ایک وقت تھا کہ فیض صاحب گانے والیوں میں اتنے مقبول تھے کہ اکثر ان سے مشاعروں میں درخواست ہوتی تھی کہ آپ اپنی فلاں گانے والی کی فلاں غزل سنا دیں پہلی قسط میں محمود صاحب نے فیض صاحب کے شادی سے قبل اور شادی کے بعد کے رومان اور معاشقوں کا بھی ذکر کیا تھا



آج یہ اس سلسلے کی دوسری قسط ہے

جس میں فیض صاحب کے معاشقوں اور رومان کے تذکرے کو ختم کرتے ہوئے محمود صاحب نے بتایا کہ فیض صاحب رومان پسند ضرور تھے مگر۔ بد چلن نہیں ۔۔ آج دوسری قسط میں۔ محمودصاحب نے بتایا کہ تقسیم ہند سے قبل ترقی پسند تحریک نے برطانوی سامراج کا اس لیئے ساتھ دیا کہ وہ روس کا اتحادی تھا بڑی تعداد میں ترقی پسند شعرا اور ادیب برطانوی فوج اور حکومت میں۔ شامل ہوئے جس میں فیض صاحب بھی تھے ۔ 1951 میں جب میجر جنرل اکبر خان کی سربراہی میں پنڈی سازش کیس کا انکشاف ہواتو اس میں ہندوستان نے کیمونسٹ پارٹی کے بھیجے ہوئے منذوب سجاد ظہیر کے ساتھ ساتھ فیض صاحب بھی سازش کے شریک کار کے طور پر گرفتار ہوئے تھے پنڈی سازش کیس میں جیل میں گزرے فیض صاحب کے دنوں کے بارے میں۔ ان کی شریک جرم ظفراللہ پوشی کی کتاب زندگی زنداں دلی کا نام ہے کا محمود صاحب نے ذکر کیا پنڈی سازش کیس کے تذکرے کے بعد محمود صاحب نے اس قسط میں جائزہ لیا فیض صاحب کہ صحافیانہ زندگی کا جس کا آغاز ہوا تھا پاکستان ٹائمز سے پھر محمود ہارون نے جب ڈان گروپ کے اخبارحریت کی ادارت انہیں دی تو فیض۔ صاحب نے اسے بائیں بازو کا اخبار ترقی پسند صحافیوں کو لا کر اسے بائیں بازو کا اخبار بنانے کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی ۔فیض صاحب۔ محفلوں میں بہت کم گو تھے اور کئی کئی گھنٹوں میں ایک جملہ بھی نہیں بولتے تھے محمود صاحب نے اس قسط میں۔ فیض صاحب کے بارے میں حمید نسیم ، خوشونت سنگھ اور صبیح محسن کہ کتابوں کا حوالہ دیا اقتباسات سنائے ا

16 min