خطبات

Rahimia Institute of Quranic Sciences

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute

  1. Aug 31

    معاشرے کی تعمیر نو کے لیے سماجی شعور اور جدوجھد کی اہمیت: قبل از بعثت، نبوی ﷺ سماجی سرگرمیوں کا مطالعہ

    خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 14؍ ربیع الاوّل 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (128) سورۃ التوبہ: 9 (128) ترجمہ: البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے، اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے، تمہاری بھلائی پر وہ حریص ہے، مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ بعثتِ نبویﷺ سے قبل عالمِ انسانیت کے فکری، سماجی اور اخلاقی حالات ✔ انبیائے کرامؑ کو اپنی قوم میں مبعوث کرنے کی سنّت اللہ ✔ اجنبی زبان کو معاشرے میں پروان چڑھانے کی ظالمانہ روِش کا مقصد ✔ قومی زبان میں تعلیم و تربیت کے اہتمام کا نبوی طریقہ کار ✔ مکہ میں بعثتِ نبویﷺ کے وقت تین اقسام کے معاشرتی طبقات ✔ مکّہ میں قبائلی چپقلش کی وجہ سے بدامنی کا فروغ ✔ نبی اکرمﷺ کی سماجی بصیرت اور کردار ✔ کُل قومی تعمیر و ترقی میں انبیائے کرامؑ کا اساسی کردار ✔ سماجی اور اجتماعی اُمور میں بھرپور شمولیت کا نبوی اُسوہ حسنہ ✔ رسول اکرمﷺ کی قبل از بعثت معاہدہ حِلف الفضول میں شرکت ✔ سیرتِ طیّبہ ﷺ میں معاہدہ حِلف الفضول کی اہمیت ✔ موجودہ سماج میں ظالم طبقات کی بابت بے حِسی و بے شعوری کا جاہلانہ رویّہ ✔ موجودہ ظالمانہ نظام کی سفّاکیت کے شعوری اِدراک کی ضرورت ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قبل از بعثت بھرپور سماجی کردار بطور دلیلِ نبوّت اور مدعیّانِ نبوّت کے ردّ کی کسوٹی ✔ حضرت ابوبکر صدّیق کا سفرِ معراج کی تصدیق کرنا اور مقامِ صدّیقیت کا حُصُول ✔ حضرت خُزیمہؓ کا رسولِ اکرمﷺ کے معاملے کی تصدیق، گواہی دینے کا واقعہ اور اُن کا اِعزاز ✔ رسولِ اکرمﷺ کا اعلیٰ سماجی کردار اور نبوّت کے فرضِ منصبی کا لازم و ملزوم تعلق ✔ حضرتِ خدیجہؓ کی زبانی رسولِ اکرمﷺ کی قبل از بعثت زندگی کا خُلاصہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا بعثت کے ذریعے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کا اجتماعی سماجی نظم و ضبط قائم کرنے کا اُسوہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قوم کی ہدایت و راہ نمائی کے لیے انتہائی فکرمندی اور اہلِ ایمان کے لیے حدّ درجہ شفقت کا رویّہ ✔ محبّت رسولﷺ کا بنیادی تقاضا: نبی اکرمﷺ اور جماعتِ صحابہؓ کی اتباع

    معاشرے کی تعمیر نو کے لیے سماجی شعور اور جدوجھد کی اہمیت: قبل از بعثت، نبوی ﷺ سماجی سرگرمیوں کا مطالعہ
  2. Aug 31

    حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر | 19-09-2025

    حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر خُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه الله بتاریخ: 25؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 19؍ ستمبر 2025ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی : قُلْ يَا عِبَادِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّـذِيْنَ اَحْسَنُـوْا فِىْ هٰذِهِ الـدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَاَرْضُ اللّـٰهِ وَاسِعَةٌ ۗ اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِـرُوْنَ اَجْرَهُـمْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ۔ (39 - الزمر: 10) ترجمہ: ”کہہ دو اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو، ان کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے، اچھا بدلہ ہے، اور اللہ کی زمین کشادہ ہے، بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز 0:56 حضور اکر م ﷺ زندگی کے تمام شعبوں میں رہنما 04:28 حضور اکر م ﷺ کی امتیازی خصوصیت؛ تمام شعبوں کی رہنما جماعت کی تیاری 08:39 انسانی فلاح کا جامع اور عالمگیر تصوُّر 10:34 حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتی حکمتِ عملی اور داعی کے اوصاف 18:06 حضور اکرم ﷺ کی بہ طورِ داعی الی اللہ جدوجہد اور دعوتی حکمتِ عملی 27:49 اہلِ مدینہ کو دعوتِ اسلام 34:53 قبیلۂ اَوس اور قبیلۂ خزرج کی آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت اور عہد 37:57 ہجرتِ مدینہ، خدشات، معاہدات؛ مقاصدِ بعثت کے تناظُر میں مطالعہ 43:51 حضور اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد؛ عالمی نظام کا قیام 47:11 ثابت قدم ایمان والی جماعت کے لیے دنیا کی بھلائی اور زمین پر غلبے کا قرآنی تصوُّر 52:38 معاشرے کی اجتماعی ترقی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط؛ اسوۂ حسنہ کی روشنی میں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

    حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر | 19-09-2025
  3. Sep 2

    مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت

    مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 14؍ ربیع الاول 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: جامع مسجد قباء، مانسہرہ خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: 1- وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَؕ-وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا (17 –بنى اسرائيل:105) ترجمہ : ”اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے قرآن اور سچ کے ساتھ اترا اور تجھ کو جو بھیجا ہم نے سو خوشی اور ڈر سنانے کو“ ۔ 2۔ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔ ترجمہ: ”اس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا “ ۔ (48–الفتح:28) حدیثِ نبویﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169) ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 2:01 ماہِ ربیع الاول کو سیرتِ رسول اکرمﷺ سے خصوصی نسبت حاصل 3:23 اقوامِ عالم کا دستور؛ قومی رہنماؤں کی سیرت و کردار کی یاد کے لیے دن مختص کرنا 5:00 اطاعتِ رسولؐ ہی دنیا و آخرت میں بھلائی اور کامیابی کی ضامن! 6:33 سیرتِ نبی اکرمﷺ پر گفتگو کے آداب، مقاصد و اہداف اور عملی تقاضے 8:42 منصبِ رسالت کے فہم کے تناظر میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے شہنشاہ مطلق اور مالک الملک ہونے پر تفصیلی گفتگو 10:00 ’رسول‘ کا حقیقی مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؐ کی عالمگیر حکمرانی کا اعلان 11:38 کائنات کا حقیقی بادشاہ اور شہنشاہِ مطلق‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے 26:09 دنیا میں احکاماتِ الٰہیہ کے نفاذ کی اتھارٹی کے طور پر شہنشاہِ مطلق کی جانب سے انبیاءؑ کی بعثت 27:59 حضورؐ سے پہلے تمام انبیاء ایک مخصوص قوم، جغرافیے اور زمانے کے لیے مبعوث ہوئے 32:04 رسول محض ڈاکیا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کے نفاذ کے لیے قوت نافذہ بھی لے کر آتا ہے 33:04 قرآنِ حکیم؛ انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے برحق پیغام 33:53 قرآن حکیم میں انسانی سماج اور اجتماعیت کی بنیادی اقدار کی دستوری ہدایات 34:47 نبی اکرمؐ کی اتھارٹی (قوتِ نافذہ) کے دو اہم لوازمات‘ بشیر اور نذیر ہونے کا حقیقی مفہوم 39:20 نبی کی اتھارٹی کا پہلا تقاضا‘ حکومت و بادشاہت 42:46 دورِ غلامی کے تصورِ رسالت میں اتھارٹی کا انکار اور دین کی حکومت کا تصور مفقود ہو گیا 54:31 حضرت محمدؐ کے معلمِ انسانیت ہونے کا حقیقی مفہوم، ریاستِ مدینہ کی تشکیل کی اساسیات اور نظامِ عبادات کی روشنی میں حکومت، اتھارٹی اور نظام کے قیام کی اہمیت 59:17 نبی اکرمؐ کی کتابِ ہدایت قرآنِ حکیم کے ساتھ بعثت نیز کتابِ ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اتھارٹی اور نظام کی ضرورت 1:02:13 دینِ حق؛ رسول اللہ کی ہدایات پر مشتمل سسٹم کی توضیح و تشریح؛ انسانیت کو ہدایت یافتہ بنانے کے لیے حکومتی اتھارٹی قائم کرنے، ماحول بنانے اور مواقع بنانے کی ضرورت ہے 1:06:36 حضورؐ کی جانب سے راستوں کو روکنے کی ممانعت نیز ’السلام علیکم‘ کا حقیقی تقاضا‘ لوگوں کو امن، مالی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی ہے 1:12:54 دینِ اسلام کے معاشی نظام میں دھوکہ دہی کی ممانعت نیز حضرت امام ابو حنیفہؒ کا معاشی لین دین میں دیانت و سچائی کا مشہور واقعہ 1:17:31 سیرتِ نبویؐ کا لازمی تقاضا‘ دینِ اسلام کے اجتماعی نظام کا قیام ہے 1:21:34 خلفائے راشدین کا دینِ اسلام کے استحکام، حکومتی رٹ قائم کرنے، ظالمانہ نظام کے خاتمے اور عادلانہ نظام کے قیام کےلیے بے لاگ کردار 1:26:19 خلافتِ بنو امیہ کے دور میں بلوچستان سے اٹک تک اور بنو عباس کے دورِ خلافت میں لاہور تک فتوحات 1:28:43 اولیاء اللہ کے نزدیک ظلم کی سیاست کی نفی اور دینِ اسلام کی سیاست کی ضرورت اور اہمیت 1:30:15 مولانا الیاس دہلویؒ کا شریعت، طریقت اور سیاست کی جامعیت پر مبنی تصورِ دین 1:32:19 یہودی اور عیسائی اپنے دین میں سود کی ممانعت کے باوجود سود خوری کرتے ہیں کیونکہ وہ انبیاء کو اتھارٹی نہیں مانتے 1:33:03 رسول اللہﷺ کے حکمران (اتھارٹی) ہونے کی حیثیت سے عادلانہ حکومت کے قیام کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

    مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت
  4. Aug 25

    دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا | 21-08-2026

    دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضاخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 7؍ ربیع الاوّل 1448ھ /21؍ اگست 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیاتوَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُؕ -رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(127) رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(128) رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ (129)سورۃ البقرۃ: 2 (127-129)ترجمہ: اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے: اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول کر۔ بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرماں بردار بنا، اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! اور ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج جو اِن پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے، اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ سلسلہ نبوّت کا تاریخی تسلسل اور نبی آخر الزّماںﷺ✔ انسانی معاشرے کی ترقی میں حضرت ابراہیمؑ کا کردار✔ تعمیرِ کعبہ کے موقع پر حضرت ابراہیمؑ کا دعاؤں کے ذریعے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا✔ استقامت کا مفہوم اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت✔ نئی اجتماعیت کی تشکیل کی بابت حضرت ابراہیمؑ کا ذہنی خاکہ اور اس کے قیام کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا✔ نبوّت اور دین کے لیے اجتماعیت کی اہمیت اور حضرت ابراہیمؑ کا قیامِ اجتماعیت کے لیے دعا کرنا✔ حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی قبولیت: مکّہ میں انسانی آبادی کا آغاز اور  تمدّن کا قیام✔ ابراہیمی دعا کے نتیجے میں دارالندوہ کی اجتماعیت کے ذریعے مکّہ کے شہری نظام کا قیام✔ نبی اکرمﷺ کا فرائضِ منصبی کی تکمیل کے لیے اجتماعی جدوجہد کو اختیار کرنا اور قیامِ اجتماعیت کو بنیاد بنانے کا اُسوہ✔ موجودہ دور کا المیہ: سیرتِ نبویﷺ کا انفرادی مطالعہ✔ رسولِ اکرمﷺ کا شعوری بنیادوں پر عام انسان کی سطح پر زندگی گزارنے کا اُسوہ✔ رسولِ اکرمﷺ کا جدوجہد سے بھرپور اور سادہ طرزِ زندگی گزارنے کا لائحہ عمل✔ حقیقی محبّتِ رسولﷺ کی تشریح و توضیح: حضرت شیخ الہندؒ کا شعوری تجزیہ✔ موجودہ دور میں بے شعوری پر مبنی محبّتِ رسولﷺ کے خود ساختہ تصوّرات کا جائزہ✔ سیرتِ نبویﷺ سے  عملی راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت✔ معاشرے میں رائج بے شعوری پر مبنی میلاد منانے کے غلط طریقوں کا تجزیہ✔ رسول اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں✔ نبی اکرمﷺ کے چار مناصبِ نبوّت اور مسلمان کا مطلوبہ کردار بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا | 21-08-2026
  5. Aug 23

    رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ | 21-08-2026

    رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 07؍ ربیع الاول  ۱۴۴۸ھ / 21؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبویہﷺ:آیتِ قرآنی:وَ مَا  اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً  لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21 –الانبیاء:107)ترجمہ : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر“ ۔احادیثِ نبویہﷺ:1۔ ”إنما أنا رحمة مهداة“.  (تفسير ابن كثير  :5/ 388)ترجمہ: ” بے شک  میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے لیے) سراپا رحمت اور انہیں سیدھا راستہ دیکھنے ولا ہوں“۔2۔ ”قال: والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون، إني رحمة بعثني الله ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه، لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب“.  (كنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال  :11/ 464)ترجمہ: ”نبی اکرمﷺنے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کو ضرور قتل کروں گا، اور انہیں ضرور سولی پر لٹکاؤں گا، اور میں انہیں ضرور ہدایت دوں گا خواہ وہ اسے ناپسند ہی کریں۔ بیشک میں سراپا رحمت ہوں، اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا جب تک اللہ اپنے دین کو غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، اور احمد ہوں، اور میں 'ماحی' (مٹانے والا) ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹا دے گا، اور میں 'حاشر' (اکٹھا کرنے والا) ہوں میرے قدموں میں لوگوں کو (قیامت کے دن) اکٹھا کیا جائے گا، اور میں 'عاقب' (سب کے آخر میں آنے والا) ہوں۔"🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ماہِ ربیع الاول کی اہمیت ✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے  پانچ موطن (نشأتیں)  ✔️ آپؐ‘ وجہِ تخلیقِ کائنات، رحمتِ عالم اور نورِ ہدایت✔️ نبی اکرمؐ کی ذاتِ قدسی‘ نورِ عرش سے ارضی فرش تک تمام مخلوقات کے لیے سراپا رحمت✔️ آپؐ کا انسانیت کو ظالموں اور طاغوتی قوتوں سے نجات دلانا‘ ’’رحمة  للعالمین‘‘ ہونے کے منافی نہیں! ✔️ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر کی روشنی میں ’’رحمة  للعالمین‘‘ کا درست معنی و مفہوم ✔️ رحمت کے تین دائروں؛ رحمتِ عقلی، قلبی اور طبعی کی وضاحت اور احادیث سے استدلال✔️ رسول اللہؐ کی تین عالمگیر حیثیتیں؛ بادشاہِ عالَم، متبحّر عالم (قانون ساز) اور مرشدِ عالم✔️ نبی اکرمؐ کی رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے جامع حکمتِ عملی کا مطالعہ✔️ آپؐ کی ریاستِ مدینہ اور حکمرانی کی حکمتِ عملی کی صدائے بازگشت‘ دار الندوہ میں ابوجہل کی زبانی✔️ ابوجہل کی خوفزدگی کی حالت میں پلاننگ کی اطلاع کے موقع پر آپؐ کا سیاسی غلبے کے اظہار اور رحمت و شفقت پر مبنی ارشادات✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور سیرتِ مقدسہ کا بنیادی ہدف و مقصد✔️ ’رحمة للعالمین‘ کے عامیانہ و انتہاء پسندانہ تصورات اور منفی اثرات‘ دورِ  غلامی کا شاخسانہ✔️ سیرتِ النبیؐ کا سب سے اہم تقاضا؛ انسانی سماج کی حالتِ مرض اور حالتِ صحت کا جائزہ لے کر رحمت کے نظام کا قیام ✔️ دورِ غلامی کا المیہ؛  آپؐ کی سیرت کے اہم پہلو‘ بادشاہِ عالم، رحمتِ سیاست اور طاغوت کے خلاف جدوجہد کا مطالعہ مفقود و عنقاء✔️ آپؐ کی جانوروں پر رحمت و شفقت سے ظالموں اور انسانیت دشمنوں کے لیے رحم دل ہونے کا استدلال درست نہیں!✔️  انسانیت دشمن طاقت سے مقابلہ اور مزاحمتی شعور بھی رحم دلی ہے✔️ عدم تشدد کے پہلے بنیادی نکتے کی سیرت النبیؐ کی روشنی میں وضاحت؛ ظالم کے خلاف نظریہ مزاحمت کی اساس پر مستقل و مستحکم جدوجہد✔️ عدم تشدد کا دوسرا مرحلہ؛ نظریے کی اساس پر نظم و ضبط، جماعت سازی اور اجتماعیت کا قیام ✔️ رحمة للعالمین کا تقاضا‘ سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر دینِ اسلام کو باطل ادیان پر غالب کرنا✔️  رحمة للعالمین کے مظاہر سے مسلمہ امت کی پہلو تہی ✔️ عصری تقاضا؛ رحمت للعالمین کا درست فہم اورانسانی سماج کی تعمیر نو کے لیے شعوری مزاحمت اور جدوجہد  کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ | 21-08-2026
  6. Aug 21

    فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے | 14-08-2026

    فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضےخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 30؍ صفر المظفّر 1448ھ /14؍ اگست 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیاتهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰى‌ۘ (15) اِذۡ نَادٰٮهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى‌ۚ‏(16) اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘(17) فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ(18) وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ(19)سورۃ النازعات:79 (15-19)ترجمہ: کیا آپ کو موسیٰ کا حال معلوم ہوا ہے؟ جب کہ مقدّس وادی طُویٰ میں اس کے ربّ نے اُسے پُکارا۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ پس کہو: کیا تیری خواہش ہے کہ تُو پاک ہو؟ اور میں تجھے تیرے ربّ کی طرف راہ بتاؤں کہ تُو ڈرے؟ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇00:00 آغاز00:52 انسان کا مقام: خلیفۃ الارض04:43 مقامِ عبدیت (عباد اللہ) اور اس کا حقیقی مفہوم08:17 انبیائے کرامؑ کی دعوتِ توحید اور غیر اللہ سے آزادی کا تصوّر11:19  رسولِ اکرمﷺ کی جدوجہد اور حضرت موسیٰؑ کی قرآنی تمثیل12:56  حضرت موسیٰؑ کا پہلا مشن: بنی اسرائیل کی قومی آزادی16:48 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا پہلا فرعونی وار: ذاتی احسانات کا بوجھ ڈالنا18:52 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا دوسرا فرعونی وار: انفرادی لغزش کی بنیاد پر دھمکی اور دباؤ قائم کرنا20:57 حضرت موسیٰؑ کا عظیم طرزِ عمل: اجتماعی اور قومی مفاد پر انفرادی فائدے کو قربان کرنا25:01  انبیائے کرامؑ کا نمونہ اور موجودہ دور کے تعلیم یافتہ طبقے کا المیہ28:31  انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی نکتہ: دور کے ظالمانہ نظام  سے آزادی دلانا30:41  برّعظیم پاک و ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے استحصالی کردار کا جائزہ36:19 برّعظیم پاک و ہند پر برطانیہ کے ظالمانہ قبضے کا دور39:46 برّ عظیم پاک و ہند کی آزادی کے لیے علمائے حقہ کے کردار کا اجمالی تعارف43:03  جدوجہدِ آزادی کے سرخیلِ اوّل: امام شاہ عبدالعزیزؒ44:24 برّعظیم پاک و ہند کے مسلم دورِ حکومت میں غیر مسلم رعایا کے ساتھ عادلانہ سلوک کے مثبت نتائج48:00 برّعظیم پاک و ہند میں جدوجہد آزادی کا علمائے حقہ کے ذریعے انیسویں صدی عیسوی میں آغاز50:52 جدوجہدِ آزادی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کا عظیم کردار اور موجودہ تعلیمی نظام کا مجاہدینِ آزادی کے تعارف سے چشم پوشی کا رویہ54:00  79 سالہ آزادی کی تاریخ اور موجودہ نو آبادیاتی نظام کا سفّاکانہ رویّہ58:16  یومِ آزادی کو بطور یومِ محاسبہ منانے کی ضرورت و اہمیت01:03:01  ملکِ عزیز میں تعلیم، صحت اور معیشت کے میدان کی تشویش ناک صورتِ حال پر غور وفکر01:07:04  ملکی وقار اور سلامتی میں قومی سوچ اور قومی خودمختاری کی اہمیت01:08:49  تاریخِ جدوجہد آزادی کی بنیاد پر نوجوانوں کے سامنے قومی سوچ اور وقار پیدا کرنے کا تقاضا بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے | 14-08-2026
  7. Aug 17

    عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے | 14-08-2026

    عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضےخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 30؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 14؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:آیتِ قرآنی:وَوَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ. (2 -البقرہ:170)ترجمہ : ” اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ“ ۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ 14 اگست خطے کی آزادی و حریت کا دن اور حقیقی آزادی و قربِ الہی کے لیے انبیاؑ کا کردار  ✔️ انسان کی عزت اور شرف‘ صرف اللہ کی بندگی اختیار کرنے میں ہے ✔️ امام شاہ عبدالعزیزؒ کے ہاں تخلیق انسانیت کے تناظر میں انسانی مساوات کا بنیادی اصول اور حکمران کا بنیادی فریضہ؛ طبقاتی نظام کا خاتمہ اور مساوات کا قیام✔️ دائرہ تخلیق اور دائرہ تدبیر میں فرق کے تناظر میں حق معیشت میں مساوات اور درجات معیشت میں تفاوت کے قرآنی اصولوں کی وضاحت اور ریاست کی ذمہ داری✔️ آزادی و حریت‘ انسان کا خمیر اور بنیادی فطرت اور  حقِ معیشت میں مساوات ریاستی حق‘ اس پر عقیدہ کا کوئی جبر نہیں!✔️ ​​ انبیاؑ‘ عقل و شعور  کی تعلیم  اور آزادی و حریت کی دعوت دینے کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے✔️سب سے بڑی غلامی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور مراکز کو تسلیم کرنا نیز انبیاؑ کی فطری بنیادوں پر ایک مرکزِ ہدایت (توحید) کی دعوت✔️ توحیدِ باری تعالی کے دوعقلی و منطقی تقاضے؛ حلال طیب زرق (وسائلِ معاش) کا حصول اور معاشی زندگی میں حلال اور طیب اشیاء کا استعمال✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں احکاماتِ الہی کی اتّباع اور مشرکین کی اپنے آباؤاجداد کی غلط روش پر قائم رہنے کی ہٹ دھرمی✔️ ان آیات کے شانِ نزول میں قریش اور یہودیوں کا اپنے بے عقل اور بے علم رہنماؤں کی اتباع پر اصرار✔️ قرآن کا غور و فکر پر مبنی سوال؛ عقل اور ہدایت سے محروم  آباء و اجداد کی پیروی کی جائے گی؟ ✔️ راہِ ہدایت کی دو صورتیں نیز  عقل اور ہدایت سے محروم  آباء و اجداد قابلِ اتّباع نہیں!✔️ عقل سے عاری اور ہدایت سے خالی بے شعور افراد‘  جانوروں،  گونگے، بہرے اور اندھوں کی مانند  ہیں✔️ حضرت شیخ الہند ؒکے نزدیک علم کے حصول کے لیے ذرائعِ علم کے آزاد ہونا لازم و ضروری✔️ غلام قوموں کا مرض: صحیح رائے کے اظہار سے دوری، درست علم سے لاتعلقی اور آنکھوں پر خواہشات کی پٹی بندھ جانا✔️ نوجوان نسل میں اپنے آباؤ و اجداد کو احمق سمجھتے ہوئے سچے رہنماؤں سے لاتعلقی اختیار کرنے  کا بڑھتا مرض نیز  آباء واجداد کی پیروی کا درست قرآنی فہم اور حضرت ابراہیمؑ کے اسوۂ حسنہ کا تعارف✔️ اپنی دھرتی، سچے رہنماؤں  اور آباؤاجداد سے رشتہ توڑنے کا نتیجہ‘ بدیسی طاقتوں کی غلامی اور نوجوان نسل کی گمراہی (مولانا سندھیؒ کا مکہ کی سیاسی حیثیت کا تجزیہ)✔️ حضرت ابراہیمؑ اعلی درجے کے عقل مند اور ہدایت یافتہ امام انسانیت اور حضور اکرم ﷺشبیہ ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام✔️ ہدایت یافتہ اور عقل مند سچے رہنماؤں کی اتباع  کی روشنی میں برعظیم میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ اور محمدیہ کے تحت حکمرانوں، محدثین و فقہا اور اولیاءاللہ کے کردار کا جائزہ✔️ پیروی کے لائق یہ سچے رہنما ہیں نہ کہ عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی غدّار، آلہ کار اور ملک دشمن لیڈر شپ!✔️ غلامی کے دور میں حریت پسند علماء اور سچے رہنماؤں کا بے لاگ کردار✔️ انگریز کا ہندوستان میں بیٹھ کر عرب پر قبضہ نیزآلہ کار تجارتی کمپنیوں کی تشکیل، سیاسی  پارٹیوں کے ذریعے نظام پر تسلط اور بالآخر زمینی حقائق کے برعکس پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا جائزہ✔️ معاہدات واتحاد کی قرآنی اساسیات نیز عقل اور ہدایت کے برخلاف عالمی سامراجی معاہدات و اتحاد میں شرکت کا تاریخی اور حالیہ مکہ معاہدے کا شعوری جائزہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے | 14-08-2026
  8. Aug 13

    انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی | 07-08-2026

    *انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی*خطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 23؍ صفر المظفّر 1448ھ /7؍ اگست 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیتلَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ(11)سورۃ الرعد:13 (11)ترجمہ: ہر شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں، اس کے آگے اور پیچھے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔  انبیائے کرامؑ کا مقصدِ بعثت: فاسد تمدن کے بالمقابل صالح تمدن کا فروغ✔  عقیدہ توحید بطور معاشرتی فساد کے اِزالہ کا ذریعہ✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیتِ قرآنی کی وضاحت✔ تمدن کے فروغ اور انسانی ضروریات کی تکمیل میں انسانی عقل کا کردار✔ اجتماعیت کے فقدان کا لازمی نتیجہ: مایوسی اور لاقانونیت✔ لاقانویت اور انتشار کا لازم و ملزوم تعلق✔ انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی اُصول: صبر اور نظم و ضبط✔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی نمایاں خرابی: معاشرے میں انتشار اور بدنظمی کو فروغ✔ قانون کی پاسداری کا یورپین فریب اور عالمی انتشار میں مغربی طاقتوں کا کردار✔ عالمی طاغوتی طاقتوں کی دنیا بھر کے آزاد اور خودمختار معاشروں میں انتشار کی سیاہ تاریخ✔ صالح فکر اور تربیت کی بجائے ’ردّعمل‘ پر قائم جماعتوں اور تحریکات کے انسانی معاشروں پر منفی اثرات کا جائزہ✔ سیرت رسول اکرمﷺ کی روشنی میں سماجی تبدیلی کا طریقہ کار: عدمِ تشدد✔ عرب اور افریقہ میں ’افراتفری‘ اور ’ردّعمل‘ کی بنیاد پر پنپنے والی تحریکات کے نتائج کا مطالعہ✔ ملکی سیاسی جماعتوں کی غلط احتجاجی حکمت عملی کے معاشرتی نقصانات✔ سماجی تبدیلی کے لیے مسلمہ اصول: صالح فکر، جماعت سازی اور عدمِ تشدد✔ عالمی استحصالی نظام کا افراتفری کو فروغ دینے کی حکمت عملی اور مسلمان ممالک کی بے شعوری✔ عالمی خیراتی اداروں اور این جی اوز کا انسانی ہمدردی کا دوہرا معیار✔ انقلاب کے عنوان سے افراتفری اور انتشار کی منفی حکمت عملی کا جائزہ✔ فاسد نظام کی تبدیلی کا درست لائحہ عمل اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں

    انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی | 07-08-2026

About

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute

You Might Also Like