خطبات

Rahimia Institute of Quranic Sciences

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute

  1. 2d ago

    اَکْل بِالبَاطِل‘ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر | 24-07-2026’

    ”اَکْل بِالبَاطِل“ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکرخطبہ جمعۃ المبارکحضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ  بتاریخ : 9؍ صفر المظفّر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیاتیٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ- اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(29) وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا- وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30)سورۃ  النساء 4: (29-30) ترجمہ : اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ آپس کی خوشی سے تجارت ہو، اور آپس میں کسی کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو شخص تعدّی (سرکشی) اور ظلم سے یہ کام کرے گا تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔  ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ ✔  انسانیت کے لیے تسخیرِ کائنات کا الٰہی نظام✔  معیشت میں تعاونِ باہمی اور تبادلہ اشیاء کا نظام✔ خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت✔ ’’اکل بالباطل‘‘ کا مفہوم✔ حدیثِ نبویﷺ کی روشنی میں ’’بِرّ‘‘ کی وضاحت✔ ’’اِثم‘‘ کا مفہوم✔ منصبِ قضا اور اِفتاء کا دائرہ کار اور بنیادی ذمہ داریاں✔ رزقِ حلال اور دینِ اسلام میں نیکی کا نظام✔ مالِ حرام سے صدقہ دینے کا حُکم✔ موجودہ معاشرے میں ٹیکسز کا ’’لاقانونی“ ظالمانہ نظام✔ ملکی عدمِ استحکام کی اہم وجہ: قومی معیشت سے محروم نظام✔ موجودہ معاشرہ میں ’’اکل بالباطل‘‘ کے وسیع تر نظام کی سفاکیّت✔ بالواسطہ ٹیکسز اور بِھیک کے فروغ پر مبنی قومی معاشی نظام  کی زبوں حالی✔ ’اکل بالباطل‘ پر مبنی منظم نظام کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات✔ ’’اکل بالباطل‘‘ پر قائم موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کی تباہ کاریاں✔ موجودہ فرسودہ معاشی نظام کے شعوری تجزیہ کی ضرورت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (�)  آئیکون کو دبادیں۔ منجانب: رحیمیہ میڈیا

    اَکْل بِالبَاطِل‘ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر | 24-07-2026’
  2. 3d ago

    شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ | 24-07-2026

    شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 09؍صفر المظفر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:آیتِ قرآنی:اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَا  اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖوَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ.(2 -البقرہ:174)ترجمہ : ”بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول، وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ، اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے ہے عذاب دردناک“۔حدیثِ نبویﷺ:”مَن كتمَ علمًا ألجمَهُ اللَّهُ يومَ القيامةِ بلجامٍ من نارٍ “. (كنز العمال :10/ 217)ترجمہ: ”جس نے علم چھپایا تو اللہ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا“.🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ کتاب مقدس‘ انسانیت کی ہدایت اور ترقی کا ذریعہ✔️ انبیائے کرامؑ کا ہدف‘ انسانوں کو تعلیم یافتہ بنانا✔️ حقیقی علم کی تعریف نیز علمِ الٰہیات کی عظمت و جامعیت✔️ حصولِ علم کے تین ذرائع؛ عقل، نقل اور کشف✔️ علمی ذرائع سے ملّتیں اور شرائع و مناہج بننے کا عمل✔️ قرآن حکیم‘ وحی الہی کے علوم کا جامع ترین ایڈیشن✔️ حقیقی اور قابلِ عمل علم جو انسانی زندگی کے تمام مراحل میں فائدہ مند ہو✔️ علمِ نبوت؛ اقترابات و ارتفاقات کا جامع ترین علم✔️ انبیاءؑ تعلیم و تربیت پر اجر کا مطالبہ نہیں کرتے✔️ حصولِ علم‘ ہر انسان کا بنیادی حق و فریضہ نیز اس کی ادائیگی ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری✔️ مسلم دورِ عروج کے ہزار سال میں تعلیم اور صحت‘ ریاست کی ذمہ داری✔️ زوال پذیر اقوام کا بنیادی مرض‘ کتمانِ علم اور تعلیم کا معاوضہ طلب کرنا✔️ وسائل پر قبضے کی ہوس، لالچ اور بھوک کے مرض میں مبتلا اقوام و ممالک✔️ یورپی اقوام کا مسلمانوں کے علوم اور ریسرچ کو دنیا سے چھپانا✔️ گزشتہ تین سو سال سے علومِ انبیاءؑ اور کتبِ الہیہ کے احکامات کے کتمان کی روش✔️ قرآن و حدیث کی روشنی میں کتمانِ علم کی سخت وعید اور سزائیں✔️ سرمایہ و محنت کی اساس پر سرمایہ داری اور سوشلزم کو شرعی دلائل سے ثابت کرنے کا غلط فہمی پر مبنی بیانیے کا جائزہ✔️ حقیقی علم کے کتمان اور انسانیت دشمن علم کے فروغ کا عصری جائزہ✔️ 1857ء کے بعد علماءِ حق کا خطے کے حقیقی علوم کو محفوظ کرنا✔️ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری، علم بیچنے کا کاروبار اور عوام کی عطیہ کردہ زمینوں پر قائم اسکول و کالجز کو ٹھیکے پر دینے کے علم دشمن عمل کا جائزہ✔️ پرائیویٹ اسکولوں کے نام پر اساتذہ اور والدین کا استحصال اور کتمانِ علم ✔️ مدارس کا رسمی نصاب‘  سماجیات، سیاسیات اور معاشیات سے خالی✔️ کتمان علم کی بڑی بھیانک مثال‘ سرمایہ داری کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا✔️ آزاد ممالک میں مقامی طریقہ ہائے علاج کا فروغ اور سرمایہ دار ممالک میں جبری پابندی✔️ ادویات پر ریسرچ کے حقیقی نتائج کو چھپانے کا عمل✔️ حقیقی علم کے کتمان کی مجرمانہ روش اور تعلیم و صحت کے قومی نظام کی عصری ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ | 24-07-2026
  3. 5d ago

    تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی | 17-07-2026

    تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائیخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 2؍ صفر المظفّر 1448ھ /17؍ جولائی 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیتفَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(116)سورۃ  ھود 11: (116)ترجمہ: سو ان جماعتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو تم سے پہلے تھیں؟ جو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے، جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا، اور جن لوگوں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہی لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں،  اور وہ مجرم تھے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔  معاشرے میں خیر کے غلبہ اور شر کے خاتمہ کی اہمیت✔  امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا  اساسی فہم و شعور✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت✔ منکر کے خلاف مزاحمتی شعور کا اجتماعی فائدہ✔ معاشرے میں فساد فی الارض کے تعین اور اس کے خلاف شعور کی قرآنی منشا✔ اُخروی کامیابی کے لیے پاکیزہ کردار کی بنیادی شرط✔ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کی اہمیت✔ مُلکِ عزیز میں فساد فی الارض کے حقیقی اسباب کا جائزہ✔ ملکی فرسودہ سیاسی و معاشی نظام کے بھیانک اثرات✔ فساد فی الارض پر مبنی ظلم پیشہ طبقات کے ہتھکنڈے✔ معاشرے کے حقیقی مجرمین (ملاء و مترف) کی شناخت اور ان کے خلاف شعور کا نبوی طریقہ کار✔ تفقّہ (سیاسی شعور) کے بغیر نیکی کا  اثر✔ فساد فی الارض کا اصل سبب: عالمی سرمایہ دارانہ نظام✔ منکرات اور فساد فی الارض کی موجودگی میں نیکی کے تصوّر کا جائزہ✔ ملکِ عزیز میں انسانی حقوق کے تحفّظ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی ناگفتہ بہ صورتِ حال✔ سماجی جدوجہد میں عدمِ تشدّد کی حکمتِ عملی کی اہمیت✔ سرمایہ پرست ذہنیت سے شعوری مزاحمت کی حکمت عملی کی افادیت✔ صبر و استقلال کے ساتھ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کا نبوی اسوہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی | 17-07-2026
  4. Jul 19

    ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہ | 17-07-2026

    ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 02؍صفر المظفر 1448ھ / 17؍ جولائی 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:آیاتِ قرآنی:وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (1) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ ۖ (2) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَﭤ(3) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ (4) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ (5) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَﭤ(6)(83 –مطففین:1تا6)ترجمہ : ”خرابی ہے گھٹانے والوں کی، وہ لوگ کہ جب ناپ کرلیں لوگوں سے تو پورا بھر لیں، اور جب ناپ کردیں ان کو یا تول کر تو گھٹا کردیں، کیا خیال نہیں رکھتے وہ لوگ کہ ان کو اٹھنا ہے، اس بڑے دن کے واسطے، جس دن کھڑے رہیں لوگ راہ دیکھتے جہان کے مالک کی“۔ حدیثِ نبویﷺ ”قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ «خَمْسٌ بِخَمْسٍ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا خَمْسٌ بِخَمْسٍ؟ قَالَ «مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا سُلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ وَمَا حَكَمُوا بِغَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللهُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الْفَقْرُ وَلَا ظَهَرَتْ فِيهِمُ الْفَاحِشَةُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الْمَوْتُ وَلَا طفَّفُوا الْمِكْيَالَ إِلَّا مُنِعُوا النَّبَاتَ وَأُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَلَا مَنَعُوا الزَّكَاةَ إِلَّا حُبِسَ عَنْهُمُ الْقَطْرُ»“. (ابن ماجہ) ترجمہ : ”نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پانچ چیزوں کے بدلے پانچ سزائیں ہیں۔“صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! وہ پانچ کے بدلے پانچ کیا ہیں؟“آپ ﷺ نے فرمایا: جب بھی کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے۔ جب بھی وہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے علاوہ (دوسرے قوانین کے ذریعے) فیصلے کرتے ہیں، تو ان میں غربت پھیل جاتی ہے۔ جب بھی کسی قوم میں کھلم کھلا بدکاری (فحاشی) عام ہوتی ہے، تو ان میں طاعون اور ناگہانی اموات (وبائیں) پھیل جاتی ہیں۔ جب بھی لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، تو ان کی پیداوار (سبزہ و نباتات) روک لی جاتی ہے اور انہیں قحط سالی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ز اور جب بھی لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی روکتے ہیں، تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ دینِ اسلام کے تین مقاصد و اہداف؛  انسانی جان و مال و عزت کی حفاظت کے نظام کا قیام✔️ ان تین دائروں میں غیر محفوظ انسانیت‘ تعلق مع اللہ سے محروم✔️ مالی لین دَین کی خرابی کے سدِ باب میں حضرات انبیاءؑ کا کردار✔️ قومِ شعیبؑ کے خراب تجارتی معاملات اور حضرت شعیب علیہ السلام کی جدوجہد✔️ نبوت کا ہدف؛ عبادتِ الٰہی کے ساتھ انسانی معاملات کو عدل پر استوار کرنا✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا شانِ نزول اور پسِ منظر✔️ یمن اور شام کی تجارتی منڈیوں کا مدینے کی تجارتی گزرگاہ سے تعلق✔️ لین دَین کے پیمانے؛  کیل، صاع اور مُدّ✔️ نبی اکرمﷺ کی آمد سے قبل اہلِ مدینہ کی ماپ تول میں کمی اور تطفیف کی روش✔️ تطفیف کی تعریف اور مستعملات نیز اہلِ مدینہ کی روش پر قرآنی انذار و تنبیہ✔️ ریاست مدینہ کے قیام کے بعد اہلِ مدینہ کا مالی معاملات میں مثالی و روشن کردار✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں قومی ترقی کی راہ میں حائل پانچ رکاوٹیں؛۱۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر عہد شکنی سے دشمنوں کا تسلط اور غلامی۲۔  غیر اللہ کے حکم کے مطابق نظام بنانے سے غربت و فقر کی حالت۳۔  کھلے عام گناہوں اور جرائم سے عذابِ الہی کا تسلط۴۔  ناپ تول میں کمی سے خسارہ، غربت و افلاس اور قحط سالی۵۔ بُرے اعمال اور انسانی حقوق توڑنے سے رحمتوں کی بارش سے محرومی اور معاشی بدحالی✔️ ریاست مدینہ، خلافت راشدہ اور خلافت بنو امیہ کے زمانے کے معاشی لین دین میں تطفیف (تخفیف) کا خاتمہ✔️ عبدالملک بن مروانؒ کے دور میں معیاری سکے ڈھالنے کا آغاز✔️  عرب کے مسلمان تاجروں کی دیانتداری نے ہندوستان کی اقوام کو متاثر کیا✔️ مسلمان حکومتوں کا عالمی منڈیوں میں انسانی حقوق کی حفاظت کا نظام✔️  دنیا میں زرّ کی اساس پر تطفیف پر مبنی سرمایہ داری نظام کا آغاز✔️  پورپین اقوام کا منڈیوں اور وسائل پر دھوکہ دہی اور لوٹ مار  سے قبضہ✔️ تطفیفی نظام کی اگلی بھیانک شکل؛  زرِّ اعتباری (کرنسی) کا بطور آلۂ مبادلہ آغاز✔️  تطفیف کا اگلا عمل؛ ڈالر (کرنسی) سے اثاثوں سے علیحدگی اور خسارے اور قرضوں کی معیشت کا استحصالی نظام✔️  قومی ریاستوں کے دور میں زرِّ اعتباری کو حقیقی زرّ قرار دینے کا عمل✔️ عالمی مافیا کا تطفیف کا اگلا عمل؛ اصل تجارت کو چھوڑ کر کرنسی کی تجارت اور لین دَین✔️ تطفیف کا جدید مرحلہ؛ قومی حکومتوں کی خود مختاری کے علی الرغم کرپٹو کرنسی کے خفیہ و پیچیدہ  کوڈز پر مبنی نظام✔️  کرۂ ارض میں کسی نئی چیز کی پیدائش کے پیچھے ارضیاتی اور فلکیاتی قوتوں کے اثرات  کارفرماں✔️  کرپٹو کرنسی کی تخلیق کی قرار واقعی حیثیت✔️  حکمت نظری کی بنیاد پر وجود میں آنے والی چیز ‘ تہذیبِ اخلاق، تدبیرِ منزل  اورسیاستِ مدینہ پر اثرات کا جائزہ✔️ ایجادات کا انسانی نفع کے لیے استعمال ضروری✔️ جنت اور جہنم کا دارومدار اور بنیاد؛  انسانیت کے لیے نفع بخش اور ضرر رسانی✔️ کرپٹو کرنسی کا انسانیت دشمنی، جرائم اور ڈارک ویب کے لیے استعمال کا جائزہ✔️ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی چھتری میں مخص جزوی تخریخات کی اساس پر قانون سازی کا جائزہ✔️ سرمایہ داری نظام میں اسلام کی بنیاد پر جائز ناجائز کی جزوی اور بے معنی مباحث کا جائزہ✔️  قرآنی آیات کی روشنی میں عصری حالات اور قومی نظام کا شعوری جائزہمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہ | 17-07-2026
  5. Jul 13

    نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہ | 10-07-2026

    نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہصداقت کی اساس پر منہج کے تعین کی قرآنی رہنمائیخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ : 24؍  محرم الحرام 1448ھ /10؍ جولائی 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیاتوَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا(80) وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(81) سورۃ  بنی اسرائیل17: (80-81) ترجمہ: اور کہہ: اے میرے رب! مجھے خوبی کے ساتھ پہنچا دے اور مجھے خوبی کے ساتھ نکال لے، اور میرے لیے اپنی طرف سے غلبہ دے جس کے ساتھ نصرت ہو۔ اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇0:00 آغاز00:48  دنیا میں مثبت و منفی اقدار کی کشمکش کا نظام01:59  شیطان کا مقصد: تذلیلِ انسانیت06:02  انبیائے کرامؑ اور ان کے متّبعین کی جدوجہد: سچائی کا غلبہ11:31 رسول اللہﷺ کے شخصی اوصاف کا کمال اور دشمن کا برملا اعتراف13:33 رسول اللہﷺ کی مکی زندگی کی جدوجہد کا خلاصہ: انسانیت کو ظلم اور جہالت سے نجات دلانا15:29  خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت17:46  اسوہ نبویﷺ کا اہم پہلو: ظالم طبقے سے ’’مداہنت‘‘ (سمجھوتہ) کا ردّ21:21 تعلیماتِ انبیائے کرامؑ کا اہم سبق: جھوٹ اور سچ کی آمیزش (دجل) کا انکار24:43  معاشرے میں جھوٹی اقدار کے بالمقابل سچی اقدار کا تعارف و غلبہ: سیرت النبیﷺ کے واقعات کے تناظر میں راہ نمائی29:45 حق اور سچ کی بنیاد پر نئے معاشرے کے قیام کا طریقہ: ہجرتِ مدینہ کے تناظر میں راہ نمائی32:28 سچے اور جھوٹے لیڈروں کے تعارف کی اہمیت: تاریخ برعظیم پاک و ہند کا تجزیاتی مطالعہ38:52 سچ اور حقائق کی بنیاد پر موجودہ حالات کے تجزیہ کی ضرورت اور جھوٹے کرداروں سے بچنے کی اہمیت44:04  دینِ اسلام میں نظمِ حکومت کے قیام اور تشکیلِ ریاست کی اہمیت47:27  غلبہ دین کا درست مفہوم: عدل اور اعلیٰ انسانی اقدار کا غلبہ53:10  غلبہ دین کے لیے باطل کو مٹانے کی ضرورت54:44  تاریخ کے متوازن تجزیے کی اہمیت56:46 قرآنی تعلیمات کے تناظر میں دُعا کا درست طریقہ کار اور اسوہ حسنہ سے راہ نمائی بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہ | 10-07-2026
  6. Jul 13

    عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ | 10-07-2026

    عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 24؍ محرم الحرام 1448ھ / 10؍ جولائی 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ . (4 –النساء:58)ترجمہ : ”اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے، بیشک اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو“۔2۔ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ  مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا.  (33 –الاحزاب:58)ترجمہ: ”اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو بدون گناہ کئے تو اٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا اور صریح گناہ کا“۔حدیثِ نبویﷺ:   ”أَرْبَى الرِّبَا عِنْدَ اللَّهِ اسْتِحْلَالُ ‌عِرْضِ ‌امْرِئٍ ‌مُسْلِمٍ“. (تفسير ابن أبي حاتم: 10/ 3153)ترجمہ: ”اللہ کے نزدیک سب سے بڑا سود؛ایک مسلمان شخص کی عزت پامال کرنا ہے “۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ عدل؛ تمام قوانین اور شرائع الہیہ کی قدرِ مشترک✔️ قرآن حکیم میں حکمرانوں کو عدل کے قیام کا خصوصی حکم✔️ عدل و انصاف کی رو کے منافی حکم اور فیصلہ کرنے کی ممانعت✔️ عدل کی اساس پر تین دائروں میں احترامِ انسانیت لازمی و ضروری✔️ اثمِ مبین؛ بغیر کسی جرم کے کسی انسان کو ایذا و تکلیف پہنچانا ✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور شانِ نزول ✔️ قرآنی حکم کی روشنی میں اسلامی نظام میں انتظامی اور عدالتی اختیارات کو الگ الگ رکھا گیا✔️ قانون سازی و فیصلہ سازی میں خلفائے راشدینؓ‘ مجلسِ مشاورت و عدلیہ  کے پابند تھے✔️ دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی روشنی میں بارہ سو سالہ مسلم دورِ حکومت میں مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ کے اختیارات کی تقسیم کا نظام قائم رہا  ✔️ شہریوں کو حبس بے جا اور ماوراءِ عدالت قتل کرنے کی کھلی چھٹی کا ظالمانہ قانون✔️ قرآنی آیت کی روشنی میں ظالمانہ نو آبادیاتی دور کے پولیس سسٹم اور عدالتی اختیارات کو بدلنے کی ضرورت نہیں؟ ✔️ بغیر شواہد و ثبوت کے الزام ترشی اور ایذا و تکلیف پہنچانا‘ بہتانِ عظیم اور اثمِ مبین✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی فکر کی روشنی میں ”البِرّ“ اور ”الاثم“ کی جامع تعریف✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں عزت کے تحفظ اور غیبت و بہتان تراشی کی مذمت✔️ تہذیب یافتہ اور غیرت مند اقوام اپنی قومی شناخت اور عزت و وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتیں!✔️ قوموں کو بظاہر آزادی دینا مگر عزت و وقار کی پامالی کا سامراجی حربہ✔️ سیاسی و معاشی غلامی کے گرداب کے ساتھ ساتھ قوم پر لاقانونیت اور ظالمانہ قوانین کا عذاب مسلط✔️ اہلِ علم و دانش کی بنیادی ذمہ داری؛ مروجہ ظالمانہ سسٹم کی خرابیوں پر غور و فکر کرکے درست کرنے کی ضرورت✔️ حضرت عمر فاروقؓ کا بطورِ حکمران روشن کردار اور احساس ذمہ داری کی واضح مثالیں✔️ عقل و شعور کی اساس پر عادلانہ نظام کا قیام ہر فرد کا اجتماعی فریضہ ✔️ آخرت کی سزا و جزا کا دار و مدار‘ دنیا میں اجتماعی نظام اور فیصلوں پر منتج✔️ آج کا المیہ؛ انفرادی جرائم اور گناہوں پر ندامت لیکن اجتماعی جرائم اور نظام کی خرابیوں سے پہلو تہی✔️ انسانی حقوق کی پامالی اور توہینِ انسانیت کے ظالمانہ قوانین کے خلاف شعوری و قانونی آواز اٹھانا نہایت ضروری✔️ قرآن کا بنیادی پیغام؛ عقل و شعور کی اساس پر سوسائٹی کے مسائل کو درست طور پر سمجھ کر علمی و فکری اور آئینی و قانونی حق استعمال کرنا ضروریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ | 10-07-2026
  7. Jul 11

    سیمینار| ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ

    ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ  خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع سیمینار  بتاریخ : 25؍ ذیقعدہ 1447ھ / 13؍ مئی 2026ء بمقام : مدرسہ رحیمیہ دارالقرآن آئی ٹن ون، اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ بین الاقوامی حالات کی تبدیلی کے تناظر میں موضوع کی اہمیت✔️ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی بکھرتی ہوئی طاقت ✔️ مدِ مقابل عالمی قوتوں کی محدودیت اور داخلی مسائل ✔️ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں بنگلہ دیش سے لے کر مراکش تک مسلم اکثریتی علاقوں کی ذمہ داری✔️ مسلم معاشروں میں دین اسلام کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر قومی اجتماعی طاقت پیدا کرنے کی ضرورت✔️ موجودہ جنگ کے تناظر میں پاکستان کی معاشی، سیاسی اور سماجی ابتری کی حالت ✔️ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطابق ترقی اور خوشحالی کے لیے دینی فکر پر قومی شناخت پیدا کرنے کی ضرورت اور اہمیت✔️ حضرت ابراہیمؑ کی جدوجہد اور فکر کے تناظر میں مشرق وسطیٰ و بلاد شام و مصر کی سماجی، سیاسی و معاشی صورت گری ✔️ انسانی مسائل کے حل کے لیے ابراہیمی اصولوں پر عملی سیاسی معاشی و سماجی نظام کے قیام کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ✔️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد ابراہیمی اصولوں پر بین الاقوامی سماج کی تشکیل✔️ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں حقائق اور معروض کو سمجھنے اور حقیقی مسائل کا ادراک حاصل کرنے کی ضرورت و اہمیت✔️ سائیکوٹ پائیکوٹ معاہدے کے تحت مشرق وسطی کی برطانوی تقسیم ✔️ ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی مسلمان خطوں کے وسائل پر نظر✔️ شمال مغربی ہند کی مسلم تاریخ کا آغاز‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں کابل کی فتح اور اردگرد کی اقوام کے اسلام قبول کرنے سے ہوتا ہے✔️ اس دھرتی کے مسلمان ہندوستان میں آٹھ سو سالہ دین اسلام کے نظام کی تاریخ سے ناواقف ہیں✔️ بدلتے ہوئے عالمی نظام اور طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن میں دینی فکر کی اساس پر قومی اجتماعیت اور سیاسی وحدت پیدا کرنے ضرورت✔️ مسلم اقوام کی اپنی تاریخ سے ناواقفیت کے اثرات و نتائج ✔️ سماجی تشکیل نو اور قومی شناخت پیدا کرنے کے لیے قرآن چار رہنماء اصول✔️ پہلا اصول: سامراجی طاقتوں سے قومی آزادی کا حصول✔️ دوسرا اصول: عدل کی اساس پر سوشل کنٹریکٹ کا قیام✔️ تیسرا اصول: بلا تفریق رنگ نسل مذہب سیاسی امن و امان کا قیام✔️ چوتھا اصول: اپنے وسائل کے آزادانہ و عادلانہ استعمال کی اساس پر معاشی خوشحالی✔️ تاریخی تسلسل توڑنے والی اقوام؛ اپنی شناخت سے محرومی اور غلامی ✔️ ایران اور جاپان نے اپنا قومی تسلسل ٹوٹنے نہیں دیا✔️ قومی تاریخی تسلسل سے کٹ جانے کے اثرات و نتائج✔️ موجودہ دور میں مسلم اقوام کی ذمہ داریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    سیمینار| ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ
  8. Jul 8

    سیمینار | معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات | مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری

    معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوریبرموقع سیمینار  بتاریخ : 25؍ ذیقعدہ 1447ھ / 13؍ مئی 2026ء بمقام : سی پی سی ہال، نیو ٹیچنگ بلاک، ہولی فیملی ہسپتال، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی ۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ اہل علم کی سنجیدہ مجالس معاشرہ کی ترقی کا ذریعہ ✔️ الہی تعلیمات اور کتبِ سماویہ میں انسانی معاشروں کے مسائل زیر بحث ✔️ مکہ مکرمہ اور حجاز کی جغرافیائی و تجارتی اہمیت  ✔️ پبلک ہیلتھ اور حفظانِ صحت کے دینی اصول✔️ ذہنی صحت کے لیے مثبت سوچ کی اہمیت✔️ جسمانی صحت کا تعلق کھانے پینے اور غذا سے ہے ✔️ کھانے پینے کی اشیاء کو حلال و حرام قرار دینے کی بنیادی حکمت✔️ جسمانی طہارت کا نبوی نظام✔️ راستوں اور محلوں  کی صفائی کی اہمیت✔️ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم کے مطابق صحت اور فراغت‘ بہت بڑی نعمت ✔️ معاشی ناہمواری اور غذائی کمی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ✔️ صحتِ عامہ‘ ریاستی ذمہ داری نیز قومی آزادی کے حصول کے بغیر صحت عامہ کا حصول ممکن نہیں ✔️ داخلی اور خارجی امن  کا ماحول جسمانی اور ذہنی صحت  کے لیے ضروری ✔️ صحت مند معاشرہ کے لیے معاشی خوشحالی کی اہمیت ✔️ آزادی کے حصول کے بعد نو آبادیاتی دور کے نظام سے نجات ضروریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    سیمینار | معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات |  مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری

About

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute