خطبات

Rahimia Institute of Quranic Sciences

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute

  1. 2d ago

    عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت | 20-09-2026

    عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 5؍ ربیع الثانی 1448ھ /18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (36) سورۃ بنی اسرائیل:17 (36) ترجمہ: اور جس بات کی تجھے خبر نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑ۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے بازپرس ہو گی۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز خطاب 0:49 دینِ اسلام بطور عظمتِ انسانی کا تکمیلی پیغام 4:18 معاشرتی تبدیلی کے لیے علم و شعور کی اہمیت اور پہلی وحی کا نزول 7:48 جاہلی معاشرے کی علامات اور دینِ اسلام کی حقیقت شناس تعلیمات 11:23 قرآنِ حکیم کا تدریجی نزول اور انسانی معاشرے پر اس کے عملی اثرات 14:31 قرآنِ حکیم میں مذکور علم کے تین ذرائع: سمع، بصر اور عقل 19:20 انسانی ذرائع علم کی ذمہ داریاں اور ان کے محاسبہ کا نظام 23:33 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں جھوٹ کی حقیقت اور موجودہ میڈیا کا کردار 27:32 خبر کی تحقیق میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری کا قرآنی حکم 32:43 قرآنِ حکیم کی راہ نمائی میں خبر کی تحقیق کا ذمہ دار: ملکی سیاسی نظام اور اس کے ادارے 35:54 عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ذرائع ابلاغ کا فریب زدہ نظام اور ہماری شعوری ذمہ داریاں 38:46 موجودہ مسلم معاشرے میں جذباتی رویے اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کا رجحان 40:11 حضرت اسامہ بن زیدؓ کا میدانِ جنگ میں مخالف کو قتل کرنے کے واقعہ سے راہ نمائی 44:36 عالمی استعمار نظام کا مسلمانوں کی جذباتی بے شعوری سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی 47:39 موجودہ سوشل میڈیائی دور کے منفی رجحانات کا تجزیہ اور ان کا تدارک کی قرآنی راہ نمائی 52:58 عالمِ عرب کی سیاسی قیادت کا موجودہ المیہ 55:18 مغربی پروپیگنڈہ کے ماحول میں قرآنی بصیرت سے راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت 57:58 علم و شعور کی قرآنی دعوت اور ہماری ذمہ داریاں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

    عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت | 20-09-2026
  2. 4d ago

    منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل | 20-09-2026

    منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 05؍ ربیع الثانی 1448ھ / 18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ (48) قُلْ یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (49) (22 -الحج:48، 49) ترجمہ : ” اور کتنی بستیاں ہیں کہ میں نے ان کو ڈھیل دی اور وہ گناہ گار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑا اور میری طرف پھر کر آنا ہے۔ تو کہہ اے لوگوں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں تم کو کھول کر “ ۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:33 تاریخِ اقوام کا قرآنی مطالعہ: ماضی کا تجزیہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی 4:15 خطبہ کی مرکزی آیات کی تشریح: نبوی منصبِ نذیر مبینﷺ اور 'قریہ ظالمانہ' کے تناظر میں ظالم اقوام کے انجام کا تذکرہ 6:38 تصورِ قریہ نیز تشکیلِ معاشرہ میں عدل، امن اور معاشی استحکام بطور بنیادی ارکان 12:42 سیاسی انتظامِ معاشرہ اور تشکیلِ قریہ: عادلانہ نظام کے لیے صالح قیادت اور نمائندوں کا انتخاب 16:42 حکومت کے دو بنیادی فرائض؛ معاشرتی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ٹیکس اکٹھا کرنا اور قومی وسائل کو اجتماعی مفاد میں استعمال کرنا 19:29 قریہ ظالمانہ؛ معاشرے پر ظالم، جابر اور استعماری طبقات کا تسلط اور کنٹرول کی چند شکلیں 21:48 بستیوں کی آباد کاری اور بقا و فلاح کا دار و مدار‘ عدل و انصاف پر منحصر 24:07 بستیوں کی تعمیر و ترقی اور قوموں کی شناخت پیدا ہونے میں صدیاں گزر جاتی ہیں نیز ظالم طاقتوں کو ڈھیل اور مہلت دینے (استدراج) کی قرآنی حکمت 30:12 ماضی کی تاریخ اور مقاصدِ بعثتِ انبیاءؑ کی روشنی ظلم پر مبنی بستیوں اور جابر طبقات کی سرکشی اور مہلتِ الٰہی سے غفلت پر گرفت اور عبرت ناک انجام پر اہلِ مکہ کو اِنذار و تنبیہ 37:57 حضرت اسماعیلؑ کا حنیفی اصولِ عشرہ پر ام القریٰ‘ مکہ مکرمہ کی آباد کاری اور عمرو ابن لحی کے دور سے ظلم و کفر کی بنیاد پر بت پرستی کی ابتداءاور ارتقاء کا پسِ منظر 44:38 مکہ میں کسریٰ ایران و قیصرِ روم کی پراکسیز نیز ابراہیمی اصولوں کو چھوڑ کر کسریٰ و قیصر کے نظامِ حکومت کی عادات کو اپنانے والی یرغمال طفیلی ریاست (قریہ ظالمانہ) کا قرآنی نقشہ 50:16 مکہ کی ظالم پر مبنی حکومت کی گرفت اور ملتِ ابراہیمی کی اصل تعلیمات کے احیاء کے لیے نبی اکرمﷺ کی بطور نذیرِ مبین‘ بعثت 53:00 نبی اکرمؐ کے وصفِ نذیرِ مبین کے بنیادی اہداف و مقاصد 55:34 نبی اکرمؐ کی دعوت قبول کرکے ابراہیمی حنیفی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے اہلِ ایمان کے لیے ’مغفرت‘ اور ’رزقِ کریم‘ کا قرآنی وعدہ نیز رزق کا وسیع تر مفہوم 59:27 مقدس دھرتی‘ مکہ سے معززین؛ انحضرتؐ اور جماعتِ رسولؐ کی بے دخلی کا مکافاتِ عمل: جابر طبقات کی پکڑ اور عبرت ناک انجام نیز حرمتِ مکہ و مدینہ کی پاسداری 1:04:35 نبیِ رحمت ﷺ کی امن پسند، تحفظِ انسانیت اور مکہ کی قومی طاقت پیدا کرنے کی بصیرت افروز حکمت عملی اور ہزار سالہ عادلانہ نظام کا قیام 1:09:47 عربوں کے بعد عادل ترک (عثمانی و تیموری)حکمران اور کل انسانیت کے لیے پیغامِ نذیرِ مبینؐ کی عالمگیر پاسبانی اور رہنما کردار 1:11:38 ظالم برطانوی شہنشاہیت اور یورپین بھیڑیوں کی ظالمانہ تاریخ، مہلتِ الٰہی کا اِتمام اور برطانیہ و امریکہ کے ظلم و استبداد پر گرفت 1:15:25 مکہ کی مرکزیت کی تباہی اور خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے اور برطانوی تسلط قائم کرنے کے لیے شریفِ مکہ کی ہاشمی خلافت کی سازش، فتویٰ فروشی، حضرت شیخ الہندؒ کا انکار، عرب اقوام کی بغاوت اور آلِ سعود کا تسلط 1:25:29 آبِ زمزم کا جغرافیائی و ہائیڈرولوجیکل نیٹ ورک نیز تحفظِ حرمین شریفین اور عالمی استعمار کا سدِباب: جزیرہ عرب اور خلیجی ممالک کے اتحاد کی ناگزیریت 1:30:22 عرب سرزمین کے تقدس کی پامالی، اللہ کی مہلت اور عرب حکمرانوں کو انذار و تنبیہ 1:33:01 عالمی منظر نامے اور سیاسی حالات پر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مدنیؒ کے رہنما کردار کو اپنانے کی ضرورت و اہمیت 1:33:59 نبی اکرمﷺ کی وراثت؛ منصبِ نذیرِ مبینؐ اپنانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

    منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل | 20-09-2026
  3. Sep 16

    نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں| 04-09-2026

    نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاںخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 21؍ ربیع الاول  1448ھ / 04؍ ستمبر 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، پشاور کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:آیتِ قرآنی: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46)ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔حدیثِ نبویﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز خطاب1:32 ربیع الاول‘ انسانوں کی روحانی ترقی اور دلوں میں نورِ محمدی کے ذریعے سے نورِ خداوندی کی پرورش کا مہینہ5:49 کرۂ ارض پر ظلم و کفر اور روحانی مُردَنی کے خاتمے کے لیے ’ازکی خلقِ اللہ‘ روحِ محمدﷺ کا انتخاب اور بعثت12:11 نبی اکرمؐ کا نور اور وجودِ گرامی‘ باعثِ تخلیقِ کائنات نیز جسمانی فضائل اور نورانی و روحانی تاثیرات15:56 جسمانی اور عقلی نشو و ارتقاء اور کامل انسان بننے کا دورانیہ‘ مثالوں سے وضاحت19:25 ماہِ ربیع الاول اور چالیس سال کی عمر مبارک میں سچے خوابات کی صورت میں انخصرتؐ کی نبوت و رسالت کے اظہارات20:53 نبوت و رسالت کا تئیس سالہ تدریجی ارتقاء؛ وحی الہی، نزولِ قرآن اور تکمیلِ دین24:06 ربیع الاول میں وصال؛ روضۂ رسول میں روحِ محمدیﷺ کی روحانیت و نورانیت کا برزخی نشو و ارتقاء اور فیوضات و برکات27:53 ربیع الاول میں سیرتِ مقدسہ کا تذکرہ‘ دلوں کو منور کرنے اور محبتِ رسولؐ پیدا کرنے کا ذریعہ29:02 نبی اکرمؐ کی نبوت کے فیضان سے کائنات اور آدمیت کی ابتدا اور خاتم النبیین کی وجہ سے تا قیامت کوئی نیا نبی نہیں آئے گا30:56 حضرت عیسیٰؑ کے دنیا میں نزول اور آمد کا ہدف اور مقصد32:46 دنیا میں حضورؐ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت سے میدانِ حشر تک آپؐ کی نبوت اور حکومت (اتھارٹی) برقرار اور قائم ہے41:24 خلفاء اور اولیاء کی صورت میں فیضِ و برکاتِ نبوت تک قیامت جاری نیز حضرت مہدی کی آمد کا مقصد44:33 محبتِ رسولؐ کے بغیر ایمان نامکمل47:54 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر؛ غزوۂ احزاب کے موقع پر عرب کی تمام قوتوں کی مدینہ پر یلغار اور صحابہ کرامؓ کا امتحان56:34  خطبے کی مرکزی آیت میں ریاست، اتھارٹی اور حکومت سے متعلق رسول اللہؐ کے پانچ اوصاف (شاہد، مبشر، منذر، داعی اور سراج منیر)  کی توضیح و تشریح1:07:27 ’دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ‘ کی روشنی میں منصبِ دعوت کے تقاضے، شیخ و مرشد کی تربیت اور اجازت کی ضرورت و اہمیت اور آج کا المیہ1:12:46 منصبِ دعوت اور وعظ کا اختیار صرف بادشاہ وقت اور با رعب عالم کو حاصل ہے1:14:15 مولانا الیاس دہلویؒ کی چھ نمبروں کی دینی دعوت و تبلیغ اور  منصبِ دعوت کے حوالے سے بڑی غلطی فہمی کا ازالہ1:17:47  پانچواں نبوی وصف؛ سراجِ منیر  کے نتائج (دنیا کا ہر کونہ نورِ محمدیﷺ سے روشن اور مکمل دینی غلبہ)1:23:24 حدیثِ نبوی میں حضورؐ کے پانچ صفاتی نام اور ان کے اثرات و نتائج1:24:40 ورثة الانبیاء: علماء کا پانچ نبوی اوصاف اپنانے اور دور کے تقاضے کے مطابق کردار ادا کرنے کی ناگزیر ضرورت1:31:00 پانچ نبوی اوصاف کی اساس پر برعظیم پاک و ہند میں حریت پسند علماء کے کردار و افکار اور ان کی اتباع کی ضرورت و اہمیت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں| 04-09-2026
  4. Sep 16

    حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں| 11-09-2026

    حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 28؍ ربیع الاوّل 1448ھ /11؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(24) سورۃ الانفال:8 (24) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور رسول کا حکم مانو جس وقت تمہیں اس کام کی طرف بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے، اور جان لو کہ اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے، اور بے شک تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز 0:53 حیاتِ انسانی کے دو دائرے: مادی حیات اور معنوی حیات 4:53 معنوی حیاتِ انسانی کی خصوصیات 7:16 معنوی حیاتِ انسانی کے ارتقاء میں نبوّت کا کلیدی کردار 8:59 اشیاء کے مقام و مرتبہ کے تعیّن میں ان کے مقاصدِ تخلیق کی اہمیت 13:52 خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت 17:50 ظالم اور مردہ معاشروں کے اِحیاء میں نبوّت کا کردار 22:31 اِحیائے معاشرہ کے لیے نبی اکرم ﷺ کا انسانی مساوات کو بنیاد بنانا 26:32 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں انسانی جِسم کی مثال کے ذریعے معاشرتی مساوات کی تفہیم 30:23 موجودہ بے حِس اور مردہ معاشرے کی سفاکیت کی حالیہ مثال 35:35 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: طبقاتی نظامِ تعلیم 38:51 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: دولت کی غیر مُنصفانہ تقسیم 42:04 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: جہالت اور بے شعوری کا پھیلاؤ 45:46 توحید کی اساس پر معاشرتی اِحیاء کی نبوی ﷺ جدوجہد کا تعارف 50:38 معاشرتی اِحیاء کے لیے صفاتِ باری تعالیٰ پر غوروفِکر کی قرآنی دعوت 52:48 دین کے حیات بخش اجتماعی نظام کو شعوری طور پر سمجھنے کی ضرورت و اہمیت 55:33 موجودہ معاشرتی بے حِسی کی بنیادی وجہ: نظامِ ظلم 59:52 معاشرتی اِحیاء کا اصل الاصول: ظالمانہ نظام کی بیخ کُنی اور دینی فِکر کی شعوری تفہیم بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

    حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں| 11-09-2026
  5. Sep 15

    فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے| 11-09-2026

    فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 28؍ ربیع الاول 1448ھ / 11؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ-یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(56) اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا (57) (33 -الاحزاب: 56، 57) ترجمہ : ” اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں رسول پر اے ایمان والو رحمت بھیجو اس پر اور سلام بھیجو سلام کہہ کر۔ جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان کو پھٹکار اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب “ ۔ حدیثِ نبویﷺ: لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ، وَوَلَدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. (مشكوة المصابيح، كتاب الإيمان، حدیث: 7) ترجمہ: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات ✔️ نبی اکرمﷺ کی محبت،عظمت، ہیبت اور جلال سے روح کا سرشار ہونا‘ مسلمان کا بنیادی فریضہ اور ایمان کا لازمی جزو ✔️ نبی اکرم ﷺ سے محبت دل کی گہرائی سے ہونی چاہیے ✔️خطبہ میں تلاوت کی گئی سورۂ احزاب کی آیات قرانی کا پس منظر ، شانِ نزول اور توضیح و تشریح ✔️ سورۂ احزاب کا پہلا حصہ غزوۂ خندق اور دوسرا حصہ نبی اکرم ﷺ سے متعلق ہدایات اور آپ ﷺکی اطاعت و فرمانبردای پر مشتمل ✔️ انحضرت ﷺ کی رسالت سے قبل قومی انتشار اور زوال سے دوچار عرب معاشرہ اور آپ ﷺ کا صحابہ کرامؓ کی اجتماعیت اور نظم و نسق قائم کرنا ✔️ رسولِ انسانیت ﷺکی اتھارٹی کو ماننے، احکامات اور فیصلوں کی پاسداری میں کسی مؤمن و مؤمنہ کو کوئی اختیار حاصل نہیں ✔️ سورت کے نصفِ آخر میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق احکامات و واقعات نیز ازواج مطہراتؓ اور اہل بیت کی عظمت و احترام کا بیان ✔️ نبی اکرم ﷺ کی اتھارٹی کا ایک نمایاں پہلو‘ اللہ کی رحمت اور تمام فرشتے اور مقربین بارگاہ الہی آپﷺ کے لیے دعا گو ہیں ✔️ صلوة علی النبیﷺ کا مطلب‘ اللہ کی خاص رحمت، محبت اور انوارت ہر دم آپ ﷺکی ذاتِ گرامی پر جاری ہیں ✔️ حضرت حمد ﷺ کی وساطت سے انواراتِ الہیہ کا کون و مکاں پر فیضان اور ایمان سے سر شار روحیں آپﷺ کے احسانات نہیں اتار سکتیں ✔️ فرشتوں کی نسبت سے صلوة کا معنی و مفہوم‘ دعا مانگنا اور وجہ تخلیقِ کائنات کے احسان کا شکر یہ ادا کرناہے ✔️ نبی اکرم ﷺ کی سالہا سال جدوجہد سے اولو العزم افراد پر مشتمل جماعتِ صحابہؓ کی تیاری، سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر ریاست (عملاً اتھارٹی) کا قیام‘ آپﷺ کے اعلیٰ نظم و نسق اور منصبِ رسالت کا اظہار ✔️ غزوہ خندق کے بعد دشمن طاقت کے رعب کا خاتمہ، عملا آپﷺ کی اتھارٹی کا قیام اور سیاسی و معاشی طاقت کا اظہار ✔️ مسلمانوں کو درود و سلام پڑھنے کا حکم نیز صلوۃ پڑھنے کے لیے درودِ ابراھیمی کی تعلیم ✔️ آپﷺ پر صلوة (درودِ ابراہیمی) پڑھنے کی تعلیم میں پنہاں حکمتیں؛ نبی ﷺ کی محبت میں غلو اور تحریف سے بچنے کے لیے درود میں اللہ تعالیٰ سے نبی اکرم ﷺ کے لیے دعا ✔️ صدق دل سے دعا مانگنے کے اثرات و نتائج نیز دعا میں آلِ محمد (آپ ﷺ کے اہل بیت اور پوری جماعت) شامل ✔️ مولانا سندھیؒ کے نزدیک آل محمد ﷺ سے آپ ﷺ کی اتھارٹی کو دنیا میں نافذ کرنے والے خلفاء راشدینؓ اور پوری جماعت شامل ہے ✔️ امرِ نبوت کا پہلا حصہ‘ وحی الہی کا سلسلہ مکمل اور منقطع ہو گیا لیکن غلبہ دین کی اساس پر جدوجہد تک قیامت جاری ہے ✔️ غلبہ دین کے دو پہلو؛ خلافتِ ظاہرہ (دین کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا غلبہ ) اور خلافتِ باطنہ (علومِ نبوت) کی تعلیم و ترویج ✔️ آلِ محمد ﷺ کا مصداق‘ علوم نبوت کو منتقل کرنے اور انہیں غالب کرنے والی جماعت‘ خواہ نسبی تعلق ہو یا روحانی ✔️خلافتِ ظاہرہ قائم کرنے میں سب سے اعلی کردار ادا کرنے والے حضرات خلفاء راشدینؓ (ابوبکرؓ، عمرؓ ، عثمانؓ اور علیؓ) سب آل محمد ﷺ میں شامل ہیں ✔️ آلِ محمد میں شامل ہونے کے لیے صرف رسول اللہ ﷺ کی نسبی اولاد ہونا کافی نہیں بلکہ وہ علومِ نبوت کا وارث اور ان کے غلبہ کے لیے سراپا جدوجہد ہو ✔️ ماضی کی تاریخ کی یاددہانی اور صلوة کا واضح مطلب؛ امامِ انسانیت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیمؑ (بنی اسرائیل و اسماعیل) اور تحریکِ حنیفیت کے پیروکاروں پر رحمت و برکت کی دعا ✔️ صلوة کے معنی و مفہوم میں رحمت کے ساتھ ساتھ برکت بھی شامل نیز برکت کی تعریف و توضیح ✔️ اللہ سے حضرت محمدﷺ اور آلِ محمدﷺ پر برکت نازل کرنے کی التجاء کے اثرات و نتائج ✔️ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیمؑ پر برکات کے اثرات و نتائج ✔️ خلفاء راشدینؓ اور خلفائے بنو امیہ، بنو عباس اور بنو عثمان کے سیاسی غلبے کی صورت میں درود و سلام اور برکاتِ نبوت کے اثرات و نتائج ✔️ ہر مسلمان کو انحضرتﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم اور رسول اللہﷺ کو ایذاء پہنچانے والے آپ ﷺ کی اتھارٹی کو تسلیم نہ کرنے والے دنیا و آخرت میں لعنت اور ذلت آمیز عذاب کے مستحق ✔️ آپ ﷺ کے تذکرہ پر درود پاک پڑھنا‘ اظہارِ محبت، دنیوی و اخروی لعنت (ذلت) سے نجات، رحمت کا حصول اور آپ ﷺ کی اتھارٹی کو تسلیم کرنا ہے ✔️ حضورﷺ کا خوشی کا اظہار اور آپﷺ کا پروٹوکول؛ ہر درود پڑھنے والے کا درود‘ فرشتے بارگاہ رسالت میں پیش کرتے ہیں ✔️ مقامِ نبوت؛ نور محمدی ﷺ نور الہی سے جڑنے کا ذریعہ و واسطہ ✔️ دوردِ پاک پڑھنا رسم نہیں نیز طریقت، شریعت اور سیاستِ محمدی ﷺ کے غلبے کے لیے کردار ادا کرنا‘ اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے منجانب: رحیمیہ میڈیا

    فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے| 11-09-2026
  6. Sep 2

    مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت | 28-08-2026

    مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 14؍ ربیع الاول 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: جامع مسجد قباء، مانسہرہ خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: 1- وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَؕ-وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا (17 –بنى اسرائيل:105) ترجمہ : ”اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے قرآن اور سچ کے ساتھ اترا اور تجھ کو جو بھیجا ہم نے سو خوشی اور ڈر سنانے کو“ ۔ 2۔ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔ ترجمہ: ”اس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا “ ۔ (48–الفتح:28) حدیثِ نبویﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169) ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 2:01 ماہِ ربیع الاول کو سیرتِ رسول اکرمﷺ سے خصوصی نسبت حاصل 3:23 اقوامِ عالم کا دستور؛ قومی رہنماؤں کی سیرت و کردار کی یاد کے لیے دن مختص کرنا 5:00 اطاعتِ رسولؐ ہی دنیا و آخرت میں بھلائی اور کامیابی کی ضامن! 6:33 سیرتِ نبی اکرمﷺ پر گفتگو کے آداب، مقاصد و اہداف اور عملی تقاضے 8:42 منصبِ رسالت کے فہم کے تناظر میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے شہنشاہ مطلق اور مالک الملک ہونے پر تفصیلی گفتگو 10:00 ’رسول‘ کا حقیقی مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؐ کی عالمگیر حکمرانی کا اعلان 11:38 کائنات کا حقیقی بادشاہ اور شہنشاہِ مطلق‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے 26:09 دنیا میں احکاماتِ الٰہیہ کے نفاذ کی اتھارٹی کے طور پر شہنشاہِ مطلق کی جانب سے انبیاءؑ کی بعثت 27:59 حضورؐ سے پہلے تمام انبیاء ایک مخصوص قوم، جغرافیے اور زمانے کے لیے مبعوث ہوئے 32:04 رسول محض ڈاکیا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کے نفاذ کے لیے قوت نافذہ بھی لے کر آتا ہے 33:04 قرآنِ حکیم؛ انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے برحق پیغام 33:53 قرآن حکیم میں انسانی سماج اور اجتماعیت کی بنیادی اقدار کی دستوری ہدایات 34:47 نبی اکرمؐ کی اتھارٹی (قوتِ نافذہ) کے دو اہم لوازمات‘ بشیر اور نذیر ہونے کا حقیقی مفہوم 39:20 نبی کی اتھارٹی کا پہلا تقاضا‘ حکومت و بادشاہت 42:46 دورِ غلامی کے تصورِ رسالت میں اتھارٹی کا انکار اور دین کی حکومت کا تصور مفقود ہو گیا 54:31 حضرت محمدؐ کے معلمِ انسانیت ہونے کا حقیقی مفہوم، ریاستِ مدینہ کی تشکیل کی اساسیات اور نظامِ عبادات کی روشنی میں حکومت، اتھارٹی اور نظام کے قیام کی اہمیت 59:17 نبی اکرمؐ کی کتابِ ہدایت قرآنِ حکیم کے ساتھ بعثت نیز کتابِ ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اتھارٹی اور نظام کی ضرورت 1:02:13 دینِ حق؛ رسول اللہ کی ہدایات پر مشتمل سسٹم کی توضیح و تشریح؛ انسانیت کو ہدایت یافتہ بنانے کے لیے حکومتی اتھارٹی قائم کرنے، ماحول بنانے اور مواقع بنانے کی ضرورت ہے 1:06:36 حضورؐ کی جانب سے راستوں کو روکنے کی ممانعت نیز ’السلام علیکم‘ کا حقیقی تقاضا‘ لوگوں کو امن، مالی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی ہے 1:12:54 دینِ اسلام کے معاشی نظام میں دھوکہ دہی کی ممانعت نیز حضرت امام ابو حنیفہؒ کا معاشی لین دین میں دیانت و سچائی کا مشہور واقعہ 1:17:31 سیرتِ نبویؐ کا لازمی تقاضا‘ دینِ اسلام کے اجتماعی نظام کا قیام ہے 1:21:34 خلفائے راشدین کا دینِ اسلام کے استحکام، حکومتی رٹ قائم کرنے، ظالمانہ نظام کے خاتمے اور عادلانہ نظام کے قیام کےلیے بے لاگ کردار 1:26:19 خلافتِ بنو امیہ کے دور میں بلوچستان سے اٹک تک اور بنو عباس کے دورِ خلافت میں لاہور تک فتوحات 1:28:43 اولیاء اللہ کے نزدیک ظلم کی سیاست کی نفی اور دینِ اسلام کی سیاست کی ضرورت اور اہمیت 1:30:15 مولانا الیاس دہلویؒ کا شریعت، طریقت اور سیاست کی جامعیت پر مبنی تصورِ دین 1:32:19 یہودی اور عیسائی اپنے دین میں سود کی ممانعت کے باوجود سود خوری کرتے ہیں کیونکہ وہ انبیاء کو اتھارٹی نہیں مانتے 1:33:03 رسول اللہﷺ کے حکمران (اتھارٹی) ہونے کی حیثیت سے عادلانہ حکومت کے قیام کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

    مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت | 28-08-2026
  7. Aug 31

    معاشرے کی تعمیر نو کے لیے سماجی شعور اور جدوجھد کی اہمیت: قبل از بعثت، نبوی ﷺ سماجی سرگرمیوں کا مطالعہ| 28-08-2026

    خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 14؍ ربیع الاوّل 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (128) سورۃ التوبہ: 9 (128) ترجمہ: البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے، اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے، تمہاری بھلائی پر وہ حریص ہے، مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ بعثتِ نبویﷺ سے قبل عالمِ انسانیت کے فکری، سماجی اور اخلاقی حالات ✔ انبیائے کرامؑ کو اپنی قوم میں مبعوث کرنے کی سنّت اللہ ✔ اجنبی زبان کو معاشرے میں پروان چڑھانے کی ظالمانہ روِش کا مقصد ✔ قومی زبان میں تعلیم و تربیت کے اہتمام کا نبوی طریقہ کار ✔ مکہ میں بعثتِ نبویﷺ کے وقت تین اقسام کے معاشرتی طبقات ✔ مکّہ میں قبائلی چپقلش کی وجہ سے بدامنی کا فروغ ✔ نبی اکرمﷺ کی سماجی بصیرت اور کردار ✔ کُل قومی تعمیر و ترقی میں انبیائے کرامؑ کا اساسی کردار ✔ سماجی اور اجتماعی اُمور میں بھرپور شمولیت کا نبوی اُسوہ حسنہ ✔ رسول اکرمﷺ کی قبل از بعثت معاہدہ حِلف الفضول میں شرکت ✔ سیرتِ طیّبہ ﷺ میں معاہدہ حِلف الفضول کی اہمیت ✔ موجودہ سماج میں ظالم طبقات کی بابت بے حِسی و بے شعوری کا جاہلانہ رویّہ ✔ موجودہ ظالمانہ نظام کی سفّاکیت کے شعوری اِدراک کی ضرورت ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قبل از بعثت بھرپور سماجی کردار بطور دلیلِ نبوّت اور مدعیّانِ نبوّت کے ردّ کی کسوٹی ✔ حضرت ابوبکر صدّیق کا سفرِ معراج کی تصدیق کرنا اور مقامِ صدّیقیت کا حُصُول ✔ حضرت خُزیمہؓ کا رسولِ اکرمﷺ کے معاملے کی تصدیق، گواہی دینے کا واقعہ اور اُن کا اِعزاز ✔ رسولِ اکرمﷺ کا اعلیٰ سماجی کردار اور نبوّت کے فرضِ منصبی کا لازم و ملزوم تعلق ✔ حضرتِ خدیجہؓ کی زبانی رسولِ اکرمﷺ کی قبل از بعثت زندگی کا خُلاصہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا بعثت کے ذریعے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کا اجتماعی سماجی نظم و ضبط قائم کرنے کا اُسوہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قوم کی ہدایت و راہ نمائی کے لیے انتہائی فکرمندی اور اہلِ ایمان کے لیے حدّ درجہ شفقت کا رویّہ ✔ محبّت رسولﷺ کا بنیادی تقاضا: نبی اکرمﷺ اور جماعتِ صحابہؓ کی اتباع

    معاشرے کی تعمیر نو کے لیے سماجی شعور اور جدوجھد کی اہمیت: قبل از بعثت، نبوی ﷺ سماجی سرگرمیوں کا مطالعہ| 28-08-2026
  8. Aug 31

    حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر | 19-09-2025

    حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر خُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه الله بتاریخ: 25؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 19؍ ستمبر 2025ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی : قُلْ يَا عِبَادِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّـذِيْنَ اَحْسَنُـوْا فِىْ هٰذِهِ الـدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَاَرْضُ اللّـٰهِ وَاسِعَةٌ ۗ اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِـرُوْنَ اَجْرَهُـمْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ۔ (39 - الزمر: 10) ترجمہ: ”کہہ دو اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو، ان کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے، اچھا بدلہ ہے، اور اللہ کی زمین کشادہ ہے، بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز 0:56 حضور اکر م ﷺ زندگی کے تمام شعبوں میں رہنما 04:28 حضور اکر م ﷺ کی امتیازی خصوصیت؛ تمام شعبوں کی رہنما جماعت کی تیاری 08:39 انسانی فلاح کا جامع اور عالمگیر تصوُّر 10:34 حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتی حکمتِ عملی اور داعی کے اوصاف 18:06 حضور اکرم ﷺ کی بہ طورِ داعی الی اللہ جدوجہد اور دعوتی حکمتِ عملی 27:49 اہلِ مدینہ کو دعوتِ اسلام 34:53 قبیلۂ اَوس اور قبیلۂ خزرج کی آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت اور عہد 37:57 ہجرتِ مدینہ، خدشات، معاہدات؛ مقاصدِ بعثت کے تناظُر میں مطالعہ 43:51 حضور اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد؛ عالمی نظام کا قیام 47:11 ثابت قدم ایمان والی جماعت کے لیے دنیا کی بھلائی اور زمین پر غلبے کا قرآنی تصوُّر 52:38 معاشرے کی اجتماعی ترقی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط؛ اسوۂ حسنہ کی روشنی میں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا

    حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر | 19-09-2025

About

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute

You Might Also Like