خطبات

Rahimia Institute of Quranic Sciences

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute

  1. قرضہ کی تباہ کن معیشت کے بالمقابل تعاون باہمی اور منصوبہ بندی کے دینی اصولوں پر سماجی تعمیرِ نو  کی ضرورت واہمیت | 12-06-2026

    5d ago

    قرضہ کی تباہ کن معیشت کے بالمقابل تعاون باہمی اور منصوبہ بندی کے دینی اصولوں پر سماجی تعمیرِ نو کی ضرورت واہمیت | 12-06-2026

    قرضہ کی تباہ کن معیشت کے بالمقابل تعاون باہمی اور منصوبہ بندی کے دینی اصولوں پر سماجی تعمیرِ نو  کی ضرورت واہمیتخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 26؍ ذی الحجہ 1447ھ / 12؍ جون 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہنما قرآنی آیتوَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ (39) اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ (40) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(41)سورۃ (الروم 30: 39-41)ترجمہ: ”اور جو سود پر تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے، سو اللہ کے ہاں وہ نہیں بڑھتا۔ اور جو زکوٰۃ دیتے ہو جس سے اللہ کی رضا چاہتے ہو، سو یہ وہی لوگ ہیں جن کے دُونے ہوئے۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر تمہیں مارے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے معبودوں میں سے کبھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکے؟ وہ پاک ہے اور ان کے شریکوں سے بلند ہے۔ خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں“۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇0:00 آغاز05:18  انسانی معاشرے کی بنیاد: تعاونِ باہمی08:35  سرکش اور طاغوت کی علامتیں10:14 صالح اور فاسد تمدن کی پہچان39:54 غیر متوازن اور طبقاتی معیشت کی اصل خرابی12:59  قرضائی معیشت کی بنیاد اور اس کی تباہ کاریاں15:59  قرضوں میں ڈوبی ہوئی پاکستانی معیشت کی زبوں حالی19:46  قرضائی معیشت کے انسانیت پر فرسودہ اثرات24:22  رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں قرض سے بچاؤ کا تذکرہ اور صحابہ کو اس کی تعلیم دینا27:06  احادیث نبویہﷺ کی روشنی میں مقروض کی اخلاقی کیفیت کا ذکر29:50  معاشی تنگدستی کا اجتماعی اخلاقیات پر اثر32:00  عالمی مالیاتی اداروں کا ملکی معاشی نظام پر قبضے کا منظم طریقہ کار35:53  ملک پر مُسلّط قرضائی معیشت کے وسیع تر منفی اثرات38:22  قرضائی معیشت سے نکلنے کا بنیادی اصول39:54  حضرت عمرِ فاروقؒ کے دور میں عراقی زمینوں کی تقسیم کا دانش مندانہ فیصلہ44:02  معاشی نظام میں منصوبہ بندی کی اہمیت اور حضرت عمرفاروق رضی اللّٰه عنہ کا اُسوہ49:04  وسائلِ دولت کی عادلانہ تقسیم کا قرآنی اصول اور اجماعِ امت54:48  ملکی وسائلِ دولت کی بجائے قرضائی معیشت پر قائم معاشی نظام کی فرسودگی58:22  مُقتدرہ کے لیے ایرانی قومی سیاسی نظام سے آزادی اور قومی حمیّت کا سبق سیکھنے کی ضرورت و اہمیت01:01:30  موجودہ دور کی ذمہ داریوں کا تعیّن اور مستقبل کے حوالے سے مایوسی کی بجائے درست لائحہ عمل کی ضرورت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    1h 5m
  2. سودی استحصال اور مغرب کی انسان دشمنی کے بالمقابل قرآن حکیم کے راست تر نظامِ ھدایت کی جامع شعوری دعوت | 12-06-2026

    Jun 15

    سودی استحصال اور مغرب کی انسان دشمنی کے بالمقابل قرآن حکیم کے راست تر نظامِ ھدایت کی جامع شعوری دعوت | 12-06-2026

    سودی استحصال اور مغرب کی انسان دشمنی کے بالمقابل قرآن حکیم کے راست تر نظامِ ھدایت کی جامع شعوری دعوتخطبۂ جمعۃ المبارکخطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 26؍ذوالحجہ 1447ھ /12؍ جون 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:1۔ اِنَّ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ يَهۡدِىۡ لِلَّتِىۡ هِىَ اَقۡوَمُ وَ يُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا ۙ‏ (17 –الإسراء:09)ترجمہ: ”یہ قرآن بتلاتا ہے وہ راہ جو سب سے سیدھی ہے اور خوشخبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو عمل کرتے ہیں اچھے کہ ان کے لیے ہے ثواب بڑا‘‘۔ 2۔ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَـكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَترجمہ:”اور ہم نے تم کو جگہ دی زمین میں اور مقرر کریں اس میں تمہارے لئے روزیاں تم بہت کم شکر کرتے ہو“۔(07 –الأعراف:10) *خطبے کی رہنما احادیثِ نبویﷺ:*1۔ ”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (صحیح بُخاری، حدیث: 5027)ترجمہ: ”تُم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔2۔ الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْعَيْشِ“. (مسند الشہاب، حدیث:33)ترجمہ: ” خرچ میں میانہ روی نصف زندگی ہے “۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔ قرآن حکیم کے حقائق پر غور و فکر کرنا‘ ایک سچے مسلمان کی نشانی✔ کتاب مقدس سے قلبی، عقلی و شعوری اور عملی تعلق لازمی و ضروری✔ مسلمان کا بنیادی فریضہ؛ چار دائروں میں قران حکیم کا فہم و شعور حاصل کرنا✔ حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائپوری نور اللہ مرقدہ کا قرآن فہمی کے لیے دورۂ تفسیر قرآن کا آغاز کرنا✔ دورۂ تفسیر قرآن حکیم کی چند اہم خصوصیات✔ قرآن حکیم کے نہ ختم ہونے والے عجائبات، مفاہیم اور بطون✔ کلام الٰہی کے مفاہیم کی فہم اور عملی اطلاقات کرنے والے ماہر قانون دان اور محقق علماء کی بنیادی خصوصیات✔ کتب مقدسہ کی اقدار اور قوانین کی روح ختم ہونے کی بنیادی وجہ ✔ قران حکیم و احادیث نبویہ‘ تمام انسانی اقدار و اخلاق کا عملی نظام✔  تمہیدی گفتگو کے تناظر میں خطبہ کی مرکزی آیت کی تشریح✔ انسانی معاشرے کے اَقوَم (راست تر) نظام کی قرآنی ہدایت و رہنمائی✔ عقل، قلب اور نفس کا قِوام؛ عدل و انصاف اور اعتدال و توازن✔ قران کا حکیم کا بنیادی موضوع بحث✔ ہر دائرے کے درست قِوام سے متعلق قرآن حکیم کی ہدایات اور خوشخبریاں  ✔ الٰہی تعلیمات اور انسانی اقدار سے عاری یورپ کی انسان دشمنی اور قتل و غارت، معاشی لوٹ کھسوٹ کی سیاہ کاریوں کی تاریخ✔ مشرقِ وسطی اور ایشیا کے خطے علم اور اخلاق کا مرکز✔ زر کی اساس پر سودی اور قرضوں کی معیشت کا ظالمانہ نظام✔ 80 سال سے سودی اور قرضوں پر مبنی خسارے کے بجٹ کا تاریخی جائزہ✔ زراعت، تجارت اور صنعت کی تباہی کے ساتھ قرضوں کا معاشی نظام‘ خوشحالی کا ضامن کیسے؟✔ ملکوں کے وسائل لوٹنے کے لیے جنگیں مسلط کرنے کا انسانیت دشمن عالمی ہتھکنڈا✔ فرعونی و ہامانی کرداروں کے حامل سفاک و ظالم حکمران✔ انسانی اقدار و اخلاق پر مبنی قرآن کا طریقۂ راست تر کی روگردانی کا نتیجہ  ✔ قرآن حکیم کی شعوری دعوت، مسلمان کا بنیادی فریضہ اور دورۂ تفسیر قرآن حکیمبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    1h 10m
  3. بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں | 05-06-2026

    Jun 7

    بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں | 05-06-2026

    بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 19؍ذوالحجہ 1447ھ /05؍ جون 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَﭤ(62)۔ (27 –النمل:62)ترجمہ: ”بھلا کون پہنچتا ہے بےکس کی پکار کو جب اس کو پکارتا ہے اور دور کردیتا ہے سختی  اور کرتا ہے تم کو نائب اگلوں کا زمین پر  اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تم بہت کم دھیان کرتے ہو‘‘۔ خطبے کی رہنما حدیثِ نبویﷺ: ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَ قَالَ:" اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ‘‘۔ ترجمہ : ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب (عامل بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا‘‘۔ [صحيح البخاري‘ حدیث: 2448]🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️  قرآنِ حکیم کا کمال؛ انسانی اجتماعیت کے جملہ پہلوؤں کی واضح تفہیم✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں اللہ کو پکارنے والے مضطرّ (بےبس مظلوم) کی دعا کی قبولیت کا بیان✔️ بےبس اور مظلوم انسانوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے✔️ دعا کی قبولیت کے بنیادی اصول، شرائط اور اسوۂ نبویؐ✔️ متنوّع و مختلف مزاجوں کے مجتمعِ انسانی میں مزاحمت و جدوجہد کی نا گُزِیرِیت✔️ اجتماعی طاقت و قوت ضرور نتیجہ پیدا کرتی ہے✔️ کرۂ ارض میں نسلِ انسانی کی بقاء و حفاظت کے لیے ارضی خلافت کا نظام✔️ انبیاءؑ کا بقاءِ انسانیت، ظلم کے خاتمے کے لیے پکار، جدوجہد اور بے لاگ کردار✔️ مظالم، فتنوں اور مصائب کے دور میں مضطرّ قوم کو اجتماعیت قائم کرنے اور مزاحمتی جدوجہد کا حکم ✔️ تین دعائیں‘ تین لوگوں کے حق میں قبول ہونے کا بنیادی راز✔️ سفر میں اجتماعیت اختیار کرنے کا حکم✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا واضح پیغام اور بےبس اور مظلوم قوم کی حالتِ زار✔️ ظالمانہ بجٹ اور اشرافیہ کی عیاشیاں‘ ایک جائزہ✔️ آمرانہ نظام میں عورت کی حکمرانی‘ ملک و قوم کی تباہی کا پیش خیمہ✔️ آج کا المیہ؛ مظلوم انسانیت قرآن کے مزاحمتی پکار سے غفلت و لاپرواہی✔️ ظلم و جبر کے ماحول اور غلامی کے دور میں حضرت شیخ الہندؒ کی پکار اور انتھک جدوجہد✔️ ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے اجتماعی طاقت پیدا کرنے والی اقوام کا خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں جائزہ  ✔️ ظلم و جبر اور بے بس کی اضطراری حالت ختم نہ ہونے کی بنیادی وجہ اور قرآن کا شعوری پیغام فکر و عملبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    1h 6m
  4. ملت ابراہیمی اور اس کے نمائندہ  نظامِ محمدی ﷺ کی روشنی میں "مہذب فاتح" کے صلیبی اور صہیونی بیانیے کا جائزہ | 29-05-2026

    Jun 5

    ملت ابراہیمی اور اس کے نمائندہ نظامِ محمدی ﷺ کی روشنی میں "مہذب فاتح" کے صلیبی اور صہیونی بیانیے کا جائزہ | 29-05-2026

    ملت ابراہیمی اور اس کے نمائندہ  نظامِ محمدی ﷺ کی روشنی میں "مہذب فاتح" کے صلیبی اور صہیونی بیانیے کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ  بتاریخ : 12؍ ذی الحجہ 1447ھ /29 ؍مئی  2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس  خطبے کی راہنما قرآنی آیت مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(67) اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا-وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ(68) وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ-وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّا اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(69) یٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ(70) یٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ (71) سورۃ آلِ عمران 3 (67-71) ترجمہ : ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، لیکن سیدھے راستے والے مسلمان تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ لوگوں میں سے سب سے زیادہ قریب ابراہیم کے وہ لوگ تھے جنہوں نے اس کی تابع داری کی اور یہ نبی اور جو اُس نبی پر ایمان لائے، اور اللہ ایمان والوں کا دوست ہے۔ بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کِسی طرح تم کو گمراہ کر دیں، اور گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجھتے۔ اے اہلِ کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم گواہ ہو۔ اے اہلِ کتاب! سچ میں جُھوٹ کیوں ملاتے ہو؟ اور سچی بات کو چھپاتے ہو؟ حالانکہ تم جانتے ہو۔  ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔️  حضرت ابراہیمؑ کے دینِ حنیف کی خصوصیات✔️  حضرت ابراہیمؑ کا جامع جماعتی کردار✔️ دینِ حنیف کی حقیقی وارث: شریعت محمدیﷺ✔️ ابراہیمی دعا کی قبولیت اور رسول اللہﷺ کی بعثت✔️ ملّتِ ابراہیمی کے حقیقی مصداق: قرآن میں مذکور تین طبقات✔️ صیہونیت و صلیبی طاقتوں کے بالمقابل مسلمانوں کے عظیم الشان غلبہ کی عادلانہ تاریخ✔️ دجل و فریب پر مبنی ابراہیمی معاہدے کا تجزیہ✔️ مغربی ممالک کا دجل پر مبنی انسانی حقوق کے پُر فریب عنوان کا استعمال✔️ اسرائیلی ریاست کے قیام کی تاریخ اور اس کے پسِ پردہ سامراجی ممالک کے مذموم مقاصد✔️ دین ابراہیمی حنیفی کی اصل حقیقت اور موجودہ دور میں اس کو سمجھنے کی اہمیت✔️ سامراجی ممالک کا ابراہیمی معاہدہ کے پُر فریب عنوان کے ذریعے ملمع سازی کا طریقہ کار✔️ دینِ ابراہیمی کو قائم کرنے والی جماعت کے چار بنیادی اصول✔️ مروجہ مذہبی راہنماؤں کی طرف سے سامراجی ممالک کو مہذّب فاتح قرار دینے کا پروپیگنڈہ اور دینِ اسلام کی عادلانہ تاریخ کا موازنہ✔️ سامراجی ممالک کا غدّاروں کے ذریعے اپنے مفادات کی تکمیل کا طریقہ کار اور موجودہ حالات کا تجزیہ✔️ مروجہ مذہبی راہنماؤں کی سامراجی ممالک سے مفادات کی بنیاد پر مرعوبانہ ذہنیت✔️ سامراجی ممالک کی استحصالی تاریخ اور عقل و شعور کی بنیاد پر تجزیہ کی ضرورت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    46 min
  5. سفلی خواہشات پر مبنی انتشار پسند عالمی سیاسی اور معاشی تسلط سے نجات اور عادلانہ الہی نظام ہدایت کی اہمیت | 29-05-2026

    May 30

    سفلی خواہشات پر مبنی انتشار پسند عالمی سیاسی اور معاشی تسلط سے نجات اور عادلانہ الہی نظام ہدایت کی اہمیت | 29-05-2026

    سفلی خواہشات پر مبنی انتشار پسند عالمی سیاسی اور معاشی تسلط سے نجات اور عادلانہ الہی نظام ہدایت کی اہمیتخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 12؍ذوالحجہ 1447ھ /29؍ مئی 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ-وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ (50)۔ (28 –القصص:50)ترجمہ: ”پھر اگر نہ کر لائیں تیرا کہا، تو جان لے کہ وہ چلتے ہیں نری اپنی خواہشوں اور اس سے گمراہ زیادہ کون جو چلے اپنی خواہش پر بدون راہ بتلائے اللہ کے، بیشک اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو‘‘۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️  دنیوی و اخروی کامیابی میں نظم و ضبط اور مربوط نظام کا کردار✔️ ذہنی انتشار‘ حنیفیت کی ضد نیز فکر و عمل کی یکسوئی کے لیے ابراہیمی انبیاءؑ کا منظم کردار✔️ کائنات کا فلکیاتی و ارضیاتی نظام‘ اعلی  ڈسپلن کا مظہر✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں خواہشات کے قیدی انسانوں کو انذار و تنبیہ✔️ قرآنی اصطلاح ’’ھویٰ‘‘ کی وضاحت✔️ انسانیت کی بحالی اور مَلَکیّت و بھیمیّت کا شرف کے لیے نظام کی ناگزیریت✔️ شرفِ انسانیت سے گرے ہوئے جانوروں سے بدتر خواہش پرست انسانوں کی حالت ✔️ گمراہ ترین انسان اور ’’ھویٰ بغیر ھدی من اللہ‘‘ کی نشان دہی✔️ حدیث میں گھوڑا (سواری) کی مثال سے ”ھویٰ بغیر ھدی من اللہ“ کی توضیح✔️ ’’ھویٰ‘‘ (خواہشات) کو ڈسپلن میں لانا‘ اللہ کی ہدایات کو ماننا و تسلیم کرنا ہے✔️ خواہش پرست (ظالم قوم) ہدایت سے محروم✔️ ظلم و عدل کی تعریف نیز شرک کے ظلمِ عظیم ہونے کا مطلب✔️ ایک زمانے میں دو رسول ماننا بھی بڑا ظلم اور خواہش پرستی✔️ رسول اللہﷺ کی ہدایت کے مطابق نظام نہ بنانا‘ ظلم اور ھویٰ بغیر ھدی من اللہ✔️ قوم کی تعمیر و تشکیل کے لیے نبی اکرمؐ کا نظامِ اقترابات و ارتفاقات✔️ فطری جغرافیے کی اساس پر اقوام کی شناخت، خود مختاری اور عدل و انصاف کے لیے نبی اکرمؐ کا کردار✔️ اقوام کے بننے اور پروان چڑھنے کے محرکات، عناصر اور عوامل✔️ بغیر سر زمین کے قوم کا تصور‘ خود ساختہ یورپی تصورات کا شاخسانہ✔️ دینِ اسلام کے حقائق کی روشنی میں خواہشات پر مبنی تصوراتی اسلام کا جائزہ✔️ نمازِ جمعہ و عید کے اجتماعات کی اصل حقیقت✔️ اقوام کا خود مختاری، عدل و انصاف کے لیے کردار ادا نہ کرنا‘ ظلم اور خواہش پرستی ✔️ حج کی عبادت میں خواہش پرستی اور ظالمانہ سرمایہ پرستی کے قومی و عالمی مفادات ✔️ سیاسی و معاشی و سماجی خرابیاں‘ انفرادی خواہشات سے زیادہ بدتر !✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں علمی طور پر حقائق پسند اور خواہش پرست معاشروں کا تجزیہ ✔️ ایران، امریکہ جنگ کے تناظر میں خواہشات کے علی الرغم خطوں اور علاقائی اقوام کو سیاسی و معاشی امور میں اجتماعی نظام قائم کرنے کی قرآنی دعوت اور نبوی ہدایات✔️ خطوں کی بندر بانٹ کرنے والی خواہش پرست اقوام و عناصر کی نشان دہی✔️ علم و شعور اور اسلام کے نظام کو سمجھنا‘ سچے مسلمان کا دینی فریضہ بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    1h 12m
  6. عشرۂ ذی الحجہ میں تعظیمِ شعائر، تکبیرِ ربّ کی اہمیت اور عبادتِ قربانی کی حقیقت | 22-05-2026

    May 30

    عشرۂ ذی الحجہ میں تعظیمِ شعائر، تکبیرِ ربّ کی اہمیت اور عبادتِ قربانی کی حقیقت | 22-05-2026

    عشرۂ ذی الحجہ میں تعظیمِ شعائر، تکبیرِ ربّ کی اہمیت اور عبادتِ قربانی کی حقیقتخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 5 ذی الحجہ 1447ھ/ 22 ؍مئی 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہنما قرآنی آیتاَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ- فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ- وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘- وَ اتَّقُوْنِ یٰاُولِی الْاَلْبَابِ.سورۃ البقرۃ (2:197)ترجمہ: حج کے چند مہینے معلوم ہیں۔ سو جو کوئی ان میں حج کا قصد کرے تو مباشرت جائز نہیں، اور نہ گناہ کرنا، اور نہ حج میں لڑائی جھگڑا کرنا۔ اور تم جو نیکی کرتے ہو، اللہ اس کو جانتا ہے۔ اور زادِراہ لیا کرو، اور بہترین زادِ راہ پرہیزگاری ہے۔ اور اے عقل مندو! مجھ سے ڈرو۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇0:00  آغاز✔  عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت✔  شعائراللہ کا مفہوم اور عظمت✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: رسول اللہﷺ سے محبّت✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: قرآنِ حکیم کی عظمت✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: بیت اللہ کا احترام✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: اِقامتِ صلوٰۃ✔ قلوب میں عظمتِ الٰہی اجاگر ہونے کا لازمی نتیجہ: غیر اللہ کی مرعوبیت سے نجات✔ عشرہ ذی الحج میں تکبیراتِ تشریق کا مقصد✔ تکبیراتِ تشریق کے ذریعے ایمان اور نظریے کی مضبوطی کا اہتمام✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: قربانی   بطور جانی (نفس) عبادت✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: قربانی   بطور ایک مستقل عبادت✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: خون بہانے کا اہتمام✔ عشرہ ذی الحجہ بطور ایّامِ تربیت✔ عبادات میں مساوات کی اہمیت✔ فلسفہ قربانی کے اِحیاء کی ضرورت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    56 min
  7. حجِ بیت اللہ کا محمدیﷺ نظام: ملتِ ابراہیمی کے عالمگیر غیر طبقاتی اقترابی و ارتفاقی مقاصد کے تناظر میں | 15-05-2026

    May 29

    حجِ بیت اللہ کا محمدیﷺ نظام: ملتِ ابراہیمی کے عالمگیر غیر طبقاتی اقترابی و ارتفاقی مقاصد کے تناظر میں | 15-05-2026

    حجِ بیت اللہ کا محمدیﷺ نظام: ملتِ ابراہیمی کے عالمگیر غیر طبقاتی اقترابی و ارتفاقی مقاصد کے تناظر میںخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ:27 ذی قعدہ   1447ھ / 15؍مئی  2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہنما قرآنی آیتوَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْقَآىٕمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(26) وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ(27) لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ-فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىٕسَ الْفَقِیْرَ٘ (28) ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ(29) سورۃ الحج (22: 26-29)ترجمہ: اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے کعبہ کی جگہ معیّن کر دی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سُجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھ۔ اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پاپیادہ اور پتلے دُبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں، تاکہ اپنے فائدوں کے لیے آ موجود ہوں اور تاکہ جو چوپائے اللہ نے انہیں دیے ہیں، ان پر مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں۔ پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔ پھر چاہیے کہ اپنا مَیل کُچیل دُور کریں اور اپنی نذریں پُوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔️ امتِ محمدیہﷺ کے ذریعے ملتِ حنیفیت کی تکمیل✔️ ملتِ حنیفت کے دو دائرے: اقترابات اور ارتفاقات✔️ بیت اللہ الحرام بطور ملتِ حنیفیت اور بین الاقوامیت کا مرکز✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: توحید کا قیام اور شرک کا ردّ✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: ظاہری و باطنی پاکیزگی کا حُصول✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: انسانیت کا بین الاقوامی مرکز✔️ حدیثِ نبویﷺ کی وضاحت اور جہاد کے ساتھ حج کی مماثلت✔️ حج بطور ایک انسانیت گِیر غیر طبقاتی اجتماع✔️ خطبہ حجۃ الوداع میں عالمی مساوات کا اعلانِ عام✔️ ملّتِ ابراہیمی کے اعمال کا شریعتِ محمّدیہ ﷺ میں ارکانِ حج کے طور پر محفوظ ہونا✔️ ملّت ابراہیمی کی حقیقی وارث: اُمتِ  محمدیہ ﷺ✔️ حج بطور ایک عالم گِیر اجتماعی عبادت✔️ حج مبرور کی حقیقت✔️ حضرت عمرؓ کا حج کی رسمیّت کی تردید اور مقصدیّت کی طرف متوجہ کرنا✔️ حضرت ابوبکرؓ کا بطور امیرِ حج تقرر اور معاہدات سے متعلق اعلانِ عام✔️ مقصدیّتِ حج کے اِحیاء کی ضرورت و اہمیت✔️ اسلامی عبادات میں اجتماعیت کی رُوح اور اس کی اہمیت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

    1h 1m

About

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute